بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1441ھ- 09 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

علماء کی ویڈیوز دیکھنا


سوال

اسلامی ویڈیوز دیکھنےکا شرعی حکم کیاہے مثلاً علماء کے بیانات سننا؟

جواب

شدید ضرورت کے بغیر جان دار کی تصویر بنانا (خواہ ڈیجیٹل ہو) حرام اور کبیرہ  گناہ ہے،  لہذا  جان دار  کی تصاویر والی  ویڈیو  بنانا، دیکھنا، اور موبائل میں محفوظ رکھنا  جائز نہیں، اور   یہ ناجائز عمل خواہ  تبلیغِ دین کی نیت سے ہو یا کسی اور مقصد  کے حصول کے لیے ہو ، بہرصورت ناجائز ہے، دین کی نشر و اشاعت و تبلیغ کے لیے ہم اپنی وسعت کی حد تک جائز ذرائع اور وسائل اختیار کرنے کے مکلف ہیں، علماءِ کرام سے استفادہ کے لیے براہِ راست ان کی مجالس میں شرکت کرکے ان کے بیان سن لیے جائیں، یا ان کے آڈیو بیان سن لیے جائیں۔ حرام چیز کو لذت یا چاہت سے دیکھنا بھی گناہ ہے، لہٰذا جان دار کی ویڈیو بنانے کی طرح ویڈیو دیکھنا بھی باعثِ گناہ ہے خواہ علما ہی کی کیوں نہ ہو۔

الدُّرُّ الْمُخْتَار کِتَابُ الْاَشْرِبَةِ:

"وَحَرُمَ الْاِنْتِفَاعُ بِالْخَمْرِ وَلَوْ لِسَقي دَوَابٍ أَوْ لِطِیْنٍ أَوْ نَظْرٍ لِلتَّلَهي".

ترجمہ: شراب سے نفع اٹھانا حرام ہے، اگرچہ چوپایوں کو پلانے، گارے میں ملانے کے لیے ہو یا محض لذت کے طور پر دیکھنے کے لیے ہو۔

 محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 ” ہم لوگ (مسلمان) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکا مسلمان بناکر چھوڑیں گے، ہاں! اس بات کے مکلف ضرور ہیں کہ تبلیغِ دین کے لیے جتنے جائز ذرائع اور وسائل ہمارے بس میں ہیں، ان کو اختیار کرکے اپنی پوری کوشش صرف کردیں۔ اسلام نے جہاں ہمیں تبلیغ کا حکم دیا ہے، وہاں تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب بھی بتائے ہیں۔ ہم ان آداب اور طریقوں کے دائرے میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں، اگر ان جائز ذرائع اور تبلیغ کے ان آداب کے ساتھ ہم اپنی تبلیغی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ عین مراد ہے، لیکن اگر بالفرض ان جائز ذرائع سے ہمیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ناجائز ذرائع اختیار کرکے لوگوں کو دین کی دعوت دیں اور تبلیغ کے آداب کو پسِ پشت ڈال کر جس جائز وناجائز طریقے سے ممکن ہو، لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کریں۔ اگر جائز وسائل کے ذریعے اور آدابِ تبلیغ کے ساتھ ہم ایک شخص کو دین کا پابند بنادیں گے تو ہماری تبلیغ کامیاب ہے اور اگر ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوا بنالیں تو اس کامیابی کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں، کیوں کہ دین کے احکام کو پامال کر کے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی نہیں کسی اور چیز کی تبلیغ ہوگی“۔( از محدث العصر  مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ،بحوالہ نقوشِ رفتگاں، ص:۱۰۴،۱۰۵)   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں