بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

علامہ انورشاہ کشمیریؒ سے منقول ایک جملہ کی تفصیل


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک غیر مقلد نے کہا ہے کہ مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پر فرمایا ہے کہ میں نے ساری عمر حنفیت کی خدمت کی کاش کہ میں اسلام کی خدمت کرتا۔ کیا آپ کی معلومات میں اس قسم کی کوئی عبارت ہے جس میں انھوں نے ایسا کہا ہو؟ اگر کہا ہے تو اس بات کی وجہ کیا تھی؟ کیوں کہا؟ کیا ایسا کہنے سے حنفیت کی نفی نہیں ہو جاتی۔ وضاحت فرما دیں ۔

جواب

علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کے مذکورہ قول کوسیاق وسباق کی روشنی میں پڑھنے سے کوئی اشکال لازم نہیں آتا،محض ایک جملے کے نقل پراکتفاکرنادیانت کے خلاف ہے۔مذکورہ قول دراصل مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع رحمہ اللہ کاذکرکردہ ہے۔جس کاپس منظر یہ ہے کہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے1385ھ میں لائل پورکے ایک دینی ادارے میں ''امت اسلامیہ ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے''کے عنوان سے خطاب فرمایاتھا۔اس خطاب میں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کاایک واقعہ بھی نقل فرمایااور مذکورہ جملے سے فقہ حنفی کی نفی ہرگزمقصودنہ تھی بلکہ یہ بتلاناتھاکہ فروعی مسائل میں رائے کااختلاف اتنی شدت اختیاکرجائے کہ اس سے باہمی افتراق وانتشارلازم آئے یہ مناسب عمل نہیں ہے۔فروعی مسائل میں رائے کااختلاف ابتدائے اسلام سے چلاآرہاہے ،اسے باہمی بعد وانتشارکاذریعہ وسبب نہیں بنناچاہیے۔حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی یہ تقریرباقاعدہ کتابی صورت میں بھی شائع ہوئی ہے۔ذیل میں مذکورہ واقعہ مکمل نقل کیاجاتاہے ،امیدہے کہ اسے پڑھنے کے بعد مذکورہ اشکال رفع ہوجائے گا۔مذکورہ جملے سے متعلق حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی تقریرکاحصہ درج ذیل ہے:

''ایک اہم واقعہ بھی آپ کے گوش گزار کروں جو اہم بھی ہے اور عبرت خیز بھی۔ قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا اور سیّدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب ؒبھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے،میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا: حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا ہاں! ٹھیک ہی ہے ،میاں مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کر دی۔ میں نے عرض کیا: حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں، دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں، مشاہیر ہیں،جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت ِ دین میں لگے ہوئے ہیں، آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ فرمایا: میں تمہیں صحیح کہتاہوں: عمر ضائع کر دی!میں نے عرض کیا: حضرت بات کیا ہے؟ فرمایا: ہماری عمر کا‘ ہماری تقریروں کا‘ ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں‘ امام ابو حنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا‘ تقریروں کا اور علمی زندگی کا! اب غورکرتاہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی ؟ ابوحنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں؟ ان کو اﷲ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے وہ مقام لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا‘ وہ تو ہمارے محتاج نہیں۔ اور امام شافعیؒ ‘امام مالکؒ اور احمد بن حنبلؒ اور دوسرے مسالک کے فقہاء جن کے مقابلے میں ہم یہ ترجیح قائم کرتے آئے ہیں‘ کیا حاصل ہے اس کا؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو ’’صواب محتمل الخطا (درست مسلک جس میں خطا کا احتمال موجود ہے) ثابت کر دیں اور دوسرے کے مسلک کو ’’خطا محتمل الصواب‘‘ (غلط مسلک جس کے حق ہونے کا احتمال موجود ہے) کہیں۔ اس سے آگے کوئی نتیجہ نہیں ان تمام بحثوں‘ تدقیقات اور تحقیقات کا ‘جن میں ہم مصروف ہیں۔ پھر فرمایا:ارے میاں! اس کا تو کہیں حشرمیں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا۔ اجتہادی مسائل صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ان کا فیصلہ نہیں ہو سکتا‘ دنیا میں بھی ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح‘ یا یہ کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو ‘اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی ‘قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی؟ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اﷲ کے الفاظ یہ تھے: اﷲ تعالیٰ شافعی کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہ کو نہ مالک کو نہ احمد بن حنبل کو‘ جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے ‘جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے ‘جنہوں نے نورِ ہدایت چار سو پھیلایا ہے ‘جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں‘ اﷲ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا کہ وہاں میدانِ محشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا ‘یا شافعی نے غلط کہا تھا ‘یا اس کے برعکس ‘یہ نہیں ہوگا! تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے ‘نہ برزخ میں اور نہ محشر میں‘ اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی ‘اپنی قوت صرف کر دی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی‘ مجمع‘علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے‘ اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں‘ جن کی دعوت انبیاء کرام ؑلے کر آئے تھے‘ جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا ‘اور وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی‘ آج یہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے و اغیار ان کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں ۔اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا‘ وہ پھیل رہے ہیں‘ گمراہی پھیل رہی ہے‘ الحاد آ رہا ہے ‘شرک و بت پرستی چلی آ رہی ہے‘ حرام و حلال کاامتیاز اٹھ رہا ہے‘ لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں! حضرت شاہ صاحب نے فرمایا: یوں غمگین بیٹھا ہوں اورمحسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی''۔(وحدت امت،ط:دارالاشاعت کراچی)


فتوی نمبر : 143706200054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے