بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

عشاء کے  فورًا بعد تہجد ادا کرنا


سوال

عشاء کے  فورًا بعد تہجد ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب

عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد سے صبح صادق تک نوافل تہجداداکیے جاسکتے ہیں، البتہ افضل وقت رات کا آخری پہرہے۔ چوں کہ بعض علماء نے تہجد کی نماز کو ان نوافل کے ساتھ مخصوص کیا ہے جو رات میں سوکر اٹھنے کے بعد ادا کیے جائیں، اس لیے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ نمازِعشاء  پڑھ کر سوجائیں، اور آدھی رات کے بعد کسی حصے میں بیدار ہوکر تہجد ادا کریں، اگر بیدار ہونے کا یقین نہ ہو یا تجربہ ہوکہ اس وقت آنکھ نہیں کھلتی تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے ہی کچھ رکعات ادا کرلینی چاہییں۔

امام ابن کثیرؒ نے حضرت حسن بصریؒ سے نمازتہجدکی جوتعریف نقل کی ہے وہ بھی اسی عموم پرشاہدہے ،اس کے الفاظ یہ ہیں:

’’حسن بصری فرماتے ہیں کہ نمازتہجد ہراس نمازپرصادق ہے جوعشاء کے بعدپڑھی جائے البتہ تعامل کی وجہ سے اس کوکچھ نیندکے بعد پرمحمول کیاجائے گا‘‘۔

 " وروی الطبراني مرفوعاً: ’’لا بد من صلاة بلیل ولو حلب شاة، وما کان بعد صلاة العشاء فهو من اللیل‘‘. وهذا یفید أن هذه السنة تحصل بالتنفّل بعد صلاة العشاء قبل النوم".(شامي۲؍۴۶۷) فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

سوئے بغیر تہجد پڑھنا

تہجد کا وقت کون سا ہے؟


فتوی نمبر : 144106200592

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں