بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدتِ وفات کے بعد بیوہ کہاں رہائش اختیار کرے؟


سوال

1- شوہر  کی وفات کی عدت گزر جانے کے بعد عورت کو کیا سسرال میں رہنا چاہیے یا اپنے ماں باپ کے گھر چلے جانا چاہیے؟ اگر ایک عورت کے ساس سسر دونوں نہیں ہیں، اور ماں باپ بھی نہیں ہیں تو عورت کو کہاں رہنا چاہیے؟

2- اگر ایک بیوہ دوسری شادی کرنا چاہے تو کیا اس کو پہلے سسرال والوں سے اپنے بچوں کے لیے جائیداد  میں سے حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1- وفات کی عدت کے بعد مرحوم شوہرنے اگر ترکہ میں مکان چھوڑا ہو تو بیوہ اس میں حصے کی حق دار ہے اور گھر میں اپنے حصے کے بقدر رہائش کا حق رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں اپنا حصہ تقسیم کرکے وصول کرنے تک شوہر کے مکان میں رہ سکتی ہے، تاہم غیر محارم (دیور وغیرہ) سے پردے کا اہتمام کرے۔ اور اگر شوہر نے مکان نہیں چھوڑا ہے تو بیوہ اپنے حصہ وراثت کی حق دار ہے۔اگر بیوہ کے پاس اپنا  یا شوہر سے وراثت کا اتنا مال ہو کہ وہ اپنی رہائش کا بندوبست کرسکے تو اس پر خود اپنی رہائش کا انتظام ضروری ہے، اور اس کے پاس وسائل نہیں ہیں توقریبی رشتہ داروں پر اس کی رہائش کا بندوبست واجب ہے۔

اگر شوہر نے بچے چھوڑے ہوں تو بیوہ کو ان کی پرورش کا حق ہے اور پر ورش کے لیے جائے پرورش یعنی مکان فراہم کرنا بچوں کے ولی کی ذمہ داری ہے۔

2 -شوہر کی وفات کے بعد بیوہ اگر دوسری جگہ شادی کرلے تو مرحوم شوہر کے ترکہ میں سے حصہ ختم نہیں ہوتا،  بلکہ بدستور حق ملے گا۔لہٰذا متروکہ جائے داد میں سے اپنے اور اپنے بچوں کے حصے کے مطالبہ کرسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے