بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدالت سے یک طرفہ خلع لینے کا حکم


سوال

شوہر کی رضامندی کے بغیر بیوی  عدالت سے خلع لے لے تو کیا حکم ہے؟ نکاح ہوجاتا ہے یا نہیں ؟

جواب

       خلع   دیگر مالی معاملات کی طرح  ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر  مالی معاملات  معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع  معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی  ہے ، اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر  بیوی  عدالت سے خلع لے لے اور عدالت اس کے  حق میں یک طرفہ خلع کی  ڈگری جاری کردے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔

''بدائع الصنائع '' میں ہے:

'' وأما ركنه: فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع  الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول''۔ (3 / 145، فصل فی  حکم الخلع، ط ؛سعید) ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے