بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدالت سے لی ہوئی خلع کی عدت


سوال

 عدالت سے خلع لی ہے 2 جولائی 2018 کو ،اس کی عدت کیا ہوگی؟

جواب

خلع کی عدت بھی وہی ہوتی ہے جو طلاق کی ہوتی ہے، یعنی اگر بیوی حمل سے نہ ہوتو  تین حیض (ماہواریاں) اوراگر حمل سے ہو تو بچے کی پیدائش پر عدت ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ مذکورہ عدالتی خلع سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب عدالتی فیصلہ دیکھنے یا اس کے مندرجات معلوم ہونے پر ہی دیا جاسکتا ہے ؛ کیوں کہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی شرط ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے