بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع


سوال

 تین سال پہلے میرا نکاح ہوا تھا جسں پر میں راضی نہیں تھی، لیکن میرے والد کے بہت اصرار پر میں نے  یہ نکاح کر لیا، دوسری طرف لڑکا بھی راضی نہ تھا، اس کے والد نے اس سے یہ وعدہ کیا کہ یہ شادی تم میری خوشی کے لیے کر لو اور بعد میں ایک اور شادی اپنی مرضی سے کر لینا، اور اس بات کا ہمیں نہیں بتایا گیا ، یہاں تک کہ نکاح بھی  اپنے گھر میں ہوا اور وہ لوگ نکاح کے دن تو کیا نکا ح کے نو مہینے بعد تک ہمارے گھر نہیں آۓ ؛ کیوں کہ لڑکے کے گھر سے اس کے والد کے سوا کوئی راضی نہیں تھا، اور دوسری طرف لڑکے کی والدہ نے لڑنا شروع کر دیا، مختلف باتیں شروع کر دیں جیسے کہ اس لڑکی کو بسنے نہیں دوں گی ،جب ہمیں سارے حالات کا علم ہوا تو  ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، پھر ہم نے طلاق کا مطالبہ کیا تو لڑکے کے باپ نے دینے سے صاف انکار کر دیا۔ 

وہ اپنی انا کی وجہ سے زندگی خراب کرنے پر تلے ہیں، دو سال تک انتظار کے بعد ہم نے عدالت میں خلع کا مطالبہ کیا اور یہ دعوی کیا کہ میری رخصتی نہیں ہوئی اور یہ ٹھیک لوگ نہیں اور میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہونا، تو عدالت سے مجھے خلع مل گئی۔

  میں اب یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ میری خلع ہو گئی کہ نہیں؟ میں اب اور کہیں نکاح کر سکتی ہوں اب کے نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح برقرار ہے۔جس بنیاد پر عدالت نے تنسیخِ نکاح بذریعہ خلع کی ڈگری جاری کی ہے وہ شرعاً فسخ نکاح کے لیے کافی وجہ نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200033

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے