بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع،عدت میں نکاح


سوال

ایک عورت نے کورٹ کے ذریعہ طلاق لی،اس کے چند دنوں کے بعد دوسرا نکاح کرلیا،عدت پوری نہیں کی اس کے درمیان نکاح کرلیا،تو یہ نکاح درست ہے؟یہ نکاح ہوگیا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر بیوی نے بذریعہ عدالت خلع کی ڈگری لی ہے تواصولی جواب یہ ہے کہ اگر عدالت نے یک طرفہ کاروائی کرتے ہوئے شوہر کی عدم موجودگی میں خلع دی ہے اور شوہر تاحال اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا تو شرعاً ایسی خلع معتبر نہیں،نکاح ختم نہیں ہوا،اور اگر شوہر کی رضامندی سے عدالت نے خلع دی ہے تو نکاح ختم ہوچکا ہے ،فیصلہ کے دن سے عدت پوری کرنا لازم ہے۔

نیز عدت کے دوران کیا ہوا نکاح  منعقد نہیں ہوتا، اس لیے بہر صورت مذکورہ عورت اور جس شخص سے اس نےنکاح کیا ہے دونوں کے درمیان جدائی لازم ہے، بصورتِ صحتِ خلع عدت مکمل کرنے کے بعد نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200992

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے