بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع / خلع کے بعد رجوع


سوال

اگر لڑکی عدالت کے ذریعے خلع لے لےاور اس کا خاوند اس کے لیے رضامند نہ ہو توکیا خلع ہو جاۓ گی؟اور دونوں میں علیحدگی ہو گئی ہے کیا؟  اوردوسری بات یہ کہ اگر عدالت کے ذریعےلڑکی نے خلع لے لی ہو اور عدت بھی گزر گئی ہو تو کیا دونوں میاں بیوی دوبارہ اکٹھا ہونا چاہیں تو کیا طریقہ یا صورت ہو سکتی ہے؟  

جواب

واضح رہے کہ خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے جس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے، اور شوہرکی رضامندی کے بغیر دی جانے والی خلع شرعاً نافذ نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر عدالت نے مذکورہ خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر دی ہے تو یہ نافذ نہیں ہوئی،  سائل اور اس کی بیوی کے درمیان نکاح بدستور قائم ہے، اگر دونوں ساتھ رہنا چاپتے ہیں تو رہ سکتے ہیں ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں