بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ظہر کی سنتیں پڑھنے کے بعد نوافل پڑھنا کیسا ہے؟


سوال

ظہر کی سنتیں پڑھنے کے بعد نوافل پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

سنتوں اور فرض کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ کرنا افضل ہے،  نماز سے پہلے بھی سنتِ مؤکدہ ادا کرکے نماز کے منافی عمل کیے بغیر فرض ادا کرنا افضل ہے۔ نفل نماز ادا کرنا نماز کے منافی تو نہیں ہے، البتہ اگر پہلے سے معلوم ہوکہ فرض نماز میں اتنا وقت ہے کہ سنتوں اور فرض کے درمیان نفل پڑھنے کا وقت ملے گا تو پہلے نفل  پڑھ کر پھر سنتِ مؤکدہ ادا کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 19):

 (ولو تكلم بين السنة والفرض لا يسقطها ولكن ينقص ثوابها)  وقيل: تسقط (وكذا كل عمل ينافي التحريمة على الأصح) قنية.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200807

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں