بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طواف کے دوران فرض، سنت یا نماز جنازہ پڑھنا


سوال

1۔اگر حج یا عمرہ یا نفلی طواف کے دوران  نماز آ گئی تو کیانماز ادا کریں گے؟ اگر کسی نماز کے بعد سنت ہوں، مثلاً: مغرب تو آیا سنت بھی پڑھیں یا طواف پورا کریں اس کے بعد سنت پڑھیں؟

 2۔  حرم میں ہر نماز کے بعد نمازِ جنازہ ہوتی  ہے،  تو کیا ہم طواف پورا کریں یا طواف  کے دوران ہی نمازِ  جنازہ اور سنت پڑھیں اور پھر باقی کا طواف پورا کریں؟

3۔  ہمارا طواف کا آخری چکر تھا،  اس میں نماز آ گئی،  نماز کے بعد ہم نے نمازِ  جنازہ پڑھی،  پھر طواف شروع کیا، ایک عالم سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نماز کے بعد صرف طواف پورا کریں،نمازِ  جنازہ نہ پڑھیں اور سنت بھی طواف کے نفل کے بعد پڑھیں، پھر اس نے کہا کہ 3 صاع صدقہ دیں، ہم نے دے دیا تو مطلب یہ ہوا کہ  طواف کے دوران صرف فرض نماز پڑھیں باقی کوئی بھی عمل نہ کریں؟

4۔  طواف میں اگر تھک جائیں یا کوئی بیماری آجائے اور انسان چل نہ سکے یا کسی ضرورت کے لیے حرم سے باہر جائے، مثلاً: واش روم کے لیے یا کھانے کے لیے یا ڈاکٹر کے لیے تو کتنے ٹائم تک کے لیے حرم میں آرام کر سکتے ہیں یا حرم سے باہر جا سکتے ہیں ؟

جواب

1۔طواف کے دوران اگر فرض نماز کا وقت آجائےتو فرض نماز میں شریک ہوکر پھر طواف وہیں سے شروع کریں جہاں چھوڑا تھا،  سنتوں کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ فرض کے بعد پڑھ کر طواف کریں،  لیکن اگرطواف جلد مکمل کرنے کے لیے کوئی عذر ہو تو طواف مکمل کرکے سنتیں پڑھنے کی گنجائش ہے۔

2۔بہتریہ ہے کہ نمازِ  جنازہ پڑھ کر طواف دوبارہ شروع کریں، لیکن اگر کوئی عذر ہو تو طواف مکمل  کرنے  کی بھی اجازت ہے۔

3۔طواف کے درمیان بلاضرورت کوئی دوسرا عمل کرنا مکروہ ہے،  فرض، سنتیں یا نمازِ  جنازہ پڑھنا ضرورت کے تحت داخل ہے، لہذا طواف کے دوران سنتیں یا نمازجنازہ پڑھنے کی  وجہ سے صدقہ لازم نہ ہوگا۔

4۔ طواف کے دوران اگر عذر پیش آجائے، مثلاً تھک جائے یا کوئی بیماری آجائے اور انسان چل نہ سکے یا کسی ضرورت کے لیے حرم سے باہر جائے  تو عذر ختم ہونے تک تاخیر کرنے کی گنجائش ہے،  اس کے لیے وقت مقرر نہیں ہے، لیکن عذر زائل ہوجانے کے بعد بلاضرورت طواف کو موخر کرنا مکروہ ہے۔

رد المحتار (2 / 497) ط: سعيد:

"ولو خرج منه أو من السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنى".

و في الرد:

بقي ما إذا حضرت الجنازة أو المكتوبة في أثناء الشوط هل يتمه أو لا؟ لم أر من صرح به عندنا وينبغي عدم الإتمام إذا خاف فوت الركعة مع الإمام وإذا عاد للبناء هل يبني من محل انصرافه أو يبتدئ الشوط من الحجر؟ والظاهر الأول قياسا على من سبقه الحدث في الصلاة ثم رأيت بعضهم نقله عن صحيح البخاري عن عطاء بن أبي رباح التابعي وهو ظاهر قول الفتح بنى على ما كان طافه والله أعلم.

تنبيه: إذا خرج لغير حاجة كره ولا يبطل فقد قال في اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مكروهاته تفريقه أي الفصل بين أشواطه تفريقاً كثيراً، وكذا قال: في السعي، بل ذكر في منسكه الكبير لو فرق السعي تفريقاً كثيراً كأن سعى كل يوم شوطاً أو أقل لم يبطل سعيه ويستحب أن يستأنف".

رد المحتار (2 / 20) ط: سعيد:

"(ولو تكلم بين السنة والفرض لايسقطها ولكن ينقص ثوابها)وقيل: تسقط (وكذا كل عمل ينافي التحريمة على الأصح) قنية، وفي الخلاصة: لو اشتغل ببيع أو شراء أو أكل أعادها وبلقمة أو شربة لا تبطل؛ ولو جيء بطعام، إن خاف ذهاب حلاوته أو بعضها تناوله ثم سنن إلا إذا خاف فوت الوقت؛ ولو أخرها لآخر الوقت لاتكون سنة وقيل: تكون".

و في الرد:

"(قوله: ولو جيء بطعام إلخ) أفاد أن العمل المنافي إنما ينقص ثوابها أو يسقطها لو كان بلا عذر، أما لو حضر الطعام وخاف ذهاب لذته لو اشتغل بالسنة البعدية فإنه يتناوله ثم يصليها لأن ذلك عذر في ترك الجماعة، ففي تأخير السنة أولى إلا إذا خاف فوتها بخروج الوقت فإنه يصليها ثم يأكل، هذا ما ظهر لي، (قوله: ولو أخرها إلخ) أي بلا عذر بقرينة ما قبله". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201394

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے