بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طواف زیارت کے بعد کی سعی ترک کرنا نیز مکی کا حج قران کرنا


سوال

میں سعودیہ میں مقیم ہوں اور میں نے 2008 میں حج قران ادا کیا تھا - ہم ۷ ذلحج کو مکہ پہنچے تھے اور عمرہ(طواف اور سعی) کر کے اسی احرام میں مغرب کے وقت منی چلے گئے تھے - ۱۰ ذلحج کو ہم نے طواف کیا لیکن سعی نہیں کی ۔ کیا ہمارا یہ عمل درست تھا؟ میں اس سال بھی حج کر رہا ہوں اور اس دفعہ بھی ان شا اللّہ ۷ ذلحج کو ہی مکّہ پہنچوں گا اور حج قرآن ہی کروں گا - برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں اور مکمل طریقہ حج قرآن کا بتادیں-

جواب

پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ اگر  آپ میقات کے اندر رہتے ہیں آپ کے لیے  حج قران یا تمتع کرنا منع  ہے، اس لیے  کہ حج قران اور تمتع صرف آفاقیوں یعنی  ان کے لیے  ہے جو میقات سے باہر رہتے ہیں، میقات کے اندر رہنے والے صرف حج افراد کرسکتے ہیں، اگر مکی آدمی حج قران یا تمتع کریں گے تو ادا ہوجائے  گا لیکن دم دینا لازم ہوگا۔ 

  • ارشاد الساری میں ہے: لاقران لاھل مکۃ ای حقیقۃ اوحکما ولا لاھل المواقیت ۔۔۔۔۔فمن قرن منھم کان مسیئا و علیہ دم جبر ۔ ( فصل فی قران المکی، ص: ۳۷۸،ط: امدادیہ)
  •   وکذا فی غنیۃ الناسک ، باب التمتع، فصل ، ص: ۲۲۰ط: ادارۃ القران)

اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ: طواف زیارت کے بعد حج کی سعی کرنا واجب ہے، الا یہ کہ عمرہ کی سعی کے بعد ایک اور  طواف کرکے حج کی سعی پہلے ہی کرلی جائے اس صورت میں طواف زیارت کے بعد دوبارہ سعی کی ضرورت نہیں، سائل نے عمرہ کے طواف کے بعد  چوں  کہ ایک ہی  سعی کی تھی جوکہ عمرہ کی  سعی کی تھی ، حج کی نہیں تھی ، اس لیے  سائل کا عمل درست نہیں تھا، اور واجب چھوڑنے کی وجہ سے دم دینا لاز م تھا جو ،اب حرم مکی میں اداکرنا واجب ہے۔حج قران کرنے والے کےلیے طواف قدوم بھی سنت ہے۔طواف قدوم عمرہ کرنے کے بعد ہوتا ہے اوراسے وقوف عرفہ سےپہلے کرلیناچاہیے۔ ( شامی، ج: ۲، ص: ۴۶۸) فقط واللہ اعلم

اس سال آپ حج قران میں درج ذیل افعال کاخیال رکھیں:

حج وعمرہ کا احرام باندھیں

عمرے کا طواف کریں

عمرے کی سعی کریں

طواف قدوم کریں

حج کی سعی کریں

منی جائیں

وقوف عرفہ کریں

پھر وقوف مزدلفہ کریں

10 ذی الحج کو بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں

قربانی کریں

حلق یا قصرکریں

گیارہ اوربارہ ذی الحج کوتینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں

بارہ کی شام سے پہلے پہلے تک طواف زیارت کریں،زیادہ اچھا ہے کہ 10 ذی الحج کو ہی کرلیں

آخر میں طواف وداع کرلیں۔

واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143811200054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے