بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

طلبہ سے چندہ جمع کرکے دعوت کرنا


سوال

مدارس کےطلباء و طالبات سے چندہ لے کر سال کے آخرمیں مختلف پروگرام  کر کے ان پیسوں سے مہمانوں کو کھانا کھلانا کیسا ہے جب کہ مدارس کے اکثر طلباء و طالبات نادار ہوتے ہیں.اس کھانے کا کیاحکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں محض ترغیب دینے پر اگر طلبہ اپنی رضامندی سے، بغیر کسی جبر و اکراہ  کے چندہ دیتے ہوں، اور چندہ بالکل نہ دینے والوں یا کم دینے والوں پر کسی قسم کی ملامت نہ کی جاتی ہو تو ایسی صورت میں جمع شدہ رقم سے مہمانوں کا اکرام کرنا جائز ہوگا، بصورتِ دیگر جائز نہ ہوگا۔

نیز اس قسم کے پروگاموں کا بوجھ طلبہ پر ڈالنے سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200530

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں