بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے علاوہ کن چیزوں سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟


سوال

طلاق کے علاوہ کن چیزوں سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

طلاق کے علاوہ مندرجہ ذیل چیزوں سے بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے:

۱:          موت۔

زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال سے زوجیت کا تعلق ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے شوہر کے لیے اپنی فوت شدہ بیوی کے انتقال کے بعد اس کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود کچھ احکام کے اعتبار سے زوجیت کا رشتہ ایک گونہ بعد از وصال بھی برقرار رہتا ہے، جیسے زوجین میں سے جو زندہ ہوگا وہ دوسرے کا وارث بنے گا اور بیوی اپنے خاوند کے انتقال کے بعد عدت گزارے گی اور سوگ کرے گی وغیرہ وغیرہ۔ 

۲:         خلع۔

میاں بیوی باہمی طور پر اس بات پر راضی ہو جائیں کہ بیوی  شوہر کو  کوئی مالی عوض دے گی، جیسے اپنا مہر معاف کر دے گی اور شوہر اس مالی عوض کے بدلے میں بیوی کو اپنی زوجیت سے آزاد کردے گا، چناں چہ شوہر کے خلع دینے سے بیوی پر طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔

حاشية ابن عابدين، كتاب الطلاق، باب الخلع (3/440) :

"قالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده".

الفتاوى الهندية (1 / 488):

"الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع، كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية، كذا في الظهيرية. (وشرطه) شرط الطلاق. (وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين".

بدائع الصنائع في تربيب الشرائع، باب الخلع (3/145):

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول".

۳:        ایلاء:

یعنی شوہر اپنی بیوی سے چار ماہ ہم بستری نہ کرنے پر قسم کھا ئے،  اس کے بعد اگرشوہر چار ماہ کے اندر اندر اپنی بیوی سے ہم بستری کرے گا تو قسم کا کفارہ لازم آئے گا اور اس صورت میں میاں بیوی کا نکاح برقرار رہے گا، لیکن چار ماہ ہم بستری نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد اگر چار ماہ تک حقوق زوجیت ادا نہیں کیے، تو بیوی پر طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔

الفتاوى الهندية (1/476):

"الإيلاء منع النفس عن قربان المنكوحة منعاً مؤكداً باليمين بالله أو غيره من طلاق أو عتاق أو صوم أو حج أو نحو ذلك مطلقاً أو مؤقتاً بأربعة أشهر في الحرائر وشهر في الإماء من غير أن يتخللها وقت يمكنه قربانها فيه من غير حنث، كذا في فتاوى قاضي خان. فإن قربها في المدة حنث وتجب الكفارة في الحلف بالله سواء كان الحلف بذاته أو بصفة من صفاته يحلف بها عرفاً وفي غيره الجزاء ويسقط الإيلاء بعد القربان وإن لم يقربها في المدة بانت بواحدة، كذا في البرجندي شرح النقاية".

۴:        لعان:

شوہر اگر اپنی بیوی کو زنا کرتا ہوا دیکھ لیتا ہے اور معتبر شرعی گواہوں سے اس کو ثابت نہیں کر پاتا   تو اس صورت میں  لعان کا حکم ہے اور لعان  یہ ہے کہ:

شوہر پانچ دفعہ قسم کھائے گا کہ: ’’میں  اپنی بات میں سچا ہوں، اور اگر میں اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو‘‘۔

 اسی طرح چوں کہ بیوی کی بدکاری کی تہمت پر شرعی نصاب گواہی مکمل نہیں، بلکہ صرف شوہر کا دعوی  ہے، اس لیے بیوی  کو سنگ سار نہیں کیا جا سکتا، یعنی حد زنا جاری نہیں کی جا سکتی، تاہم شوہر کی تہمت کو اپنے سے دور کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو زنا کی حد سے بچانے کے لیے بیوی پر بھی لازم ہوتا ہے کہ وہ پانچ قسمیں کھائے، کہ: ’’میرا شوہر جھوٹا ہے، اور اگر وہ سچا ہے مجھ پر اللہ کا غیظ وغضب نازل ہو۔   ‘‘

اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے، تو اس پر حد جاری ہوگی، شوہر اگر قسم کھانے سے انکار کرتا ہے تو اس پر حد قذف جاری ہوگی، یعنی ۸۰ کوڑے لگائیں جائیں گے، اور اگر بیوی قسم کھانے سے انکار کرے گی تو اس پر حد زنا جاری ہوگی، یعنی اس کو سنگ سار کیا جائے گا۔

مندرجہ بالا طریقے سے زوجین میں لعان جاری ہونے کے بعد (یعنی اگر دونوں ہی قسم اٹھا لیں تو) آپس میں ازدواجی تعلق حرام ہو جاتا ہے، اس کے بعد یا تو شوہر طلاق دے دے، یا قاضی دونوں میں تفریق کر دے۔

الفتاوى الهندية (1 /514):

اللعان عندنا: شهادات مؤكدات بالأيمان من الجانبين مقرونة باللعن والغضب قائمة مقام حد القذف في حقه ومقام حد الزنا في حقها، كذا في الكافي. إذا قذف امرأته مرات فعليه لعان واحد، كذا في المبسوط".

الفتاوى الهندية (1 /515):

"حكمه حرمة الوطء والاستمتاع لما فرغ من اللعان ولكن لا تقع الفرقة بنفس اللعان حتى لو طلقها في هذه الحالة طلاقاً بائناً يقع، وكذا لو أكذب الرجل نفسه حل الوطء من غير تجديد النكاح، كذا في النهاية.

قال أبو حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -: الفرقة الواقعة في اللعان فرقة بتطليقة بائنة فيزول ملك النكاح وتثبت حرمة الاجتماع والتزويج ما دام على حالة اللعان، كذا في البدائع يشترط طلبها فإن امتنع عنها حبسه الحاكم حتى يلاعن أو يكذب نفسه، كذا في الهداية. فيحد حد القذف، كذا في السراج الوهاج".

۵:         شوہر کا غائب ہونا:

اسی طرح شوہر کے غائب ہونے کی صورت میں بھی امام مالکؒ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے، اگر مطلوبہ شرائط پائی جائیں تو قاضی چار  سال کے انتظار کے بعد بیوی کو غائب شوہر کے نکاح سے آزاد کر سکتا ہے۔

۷:        ارتداد (دین اسلام سے پھر جانا):

زوجین میں سے اگر کوئی بھی دین اسلام چھوڑ دے، العیاذ باللہ، تو دونوں کا نکاح ختم ہو کر دونوں میں علیحدگی واقع ہو جاتی ہے۔

الفتاوى الهندية (1 /339):

"ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده ثم إن كان الزوج هو المرتد فلها كل المهر إن دخل بها ونصفه إن لم يدخل بها وإن كانت هي المرتدة فلها كل المهر إن دخل بها وإن لم يدخل بها فلا مهر لها، وإن ارتدا معاً ثم أسلما معاً فهما على نكاحهما استحساناً، ولو أسلم أحدهما بعد ارتدادهما معاً وقعت الفرقة بينهما،كذا في الكافي. وإن لم يعرف سبق أحدهما في الارتداد يجعل في الحكم كأنهما وجدا معاً، كذا في الظهيرية".

8:        نکاح کے بعد رضاعت کا یقینی علم ہونا:

اگر معتبر گواہوں کی گواہی سے یہ ثابت ہو جائے کہ میاں بیوی دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں، تو قاضی دونوں میں تفریق کر دےگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)،باب الرضاع(3 /224):

" (و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي.

وفي الرد: (قوله: حجته إلخ) أي دليل إثباته وهذا عند الإنكار؛ لأنه يثبت بالإقرار مع الإصرار كما مر (قوله: وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال. وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأةً كان أو رجلاً قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعاً، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قيله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه، وبه جزم البزازي معللاً بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الدفع. ويوفق بحمل الأول على ما إذا لم تعلم عدالة المخبر أو على ما في المحيط من أن فيه روايتين، ومقتضاه أنه بعد العقد لا يعتبر اتفاقاً، لكن نقل الزيلعي عن المغني وكراهية الهداية: أن خبر الواحد مقبول في الرضاع الطارئ بأن كان تحته متغيرة فشهدت واحدة بأن أمه أو أخته أرضعتها بعد العقد. قلت: ويشير إليه ما مر من قول الخانية وهما كبيران، لكن قال في البحر بعد ذلك: إن ظاهر المتون أنه لا يعمل به مطلقاً، فليكن هو المعتمد في المذهب. قلت: وهو أيضاً ظاهر كلام كافي الحاكم الذي هو جمع كتب ظاهر الرواية، وفرق بينه وبين قبول خبر الواحد بنجاسة الماء أو اللحم، فراجعه من كتاب الاستحسان".

الموسوعة الفقهية الكويتية (41 /321):

انتهاء النكاح:

ينتهي النكاح وتنفصم عقدته بأمور: منها ما يكون فسخا لعقد النكاح يرفعه من أصله أو يمنع بقاءه واستمراره، ومنها ما يكون طلاقا أو في حكمه، ومن ذلك:

أ - الموت:

163 - تنحل رابطة الزوجية إذا مات أحد الزوجين.

ولكنه مع ذلك يترتب على النكاح الذي انتهى بالموت أحكام منها: أن من بقي من الزوجين يرث من مات منهما، وأن الزوجة تحد وتعتد إن توفي الزوج، ويحل ما أجل من صداقها إن كان المتوفى أحدهما. والتفصيل في مصطلح (إحداد ف 9 وما بعدها، إرث ف 35 - 38، عدة ف 8، 17 - 20، 58، 61، مهر ف 31، موت)".

(حاشیه ابن عابدین  كتاب الهبة: 5/688-690، ط: سعید)

مذکورہ بالا سطور میں طلاق کے علاوہ  جن چیزوں سے نکاح ٹوٹتا ہے،ان میں سے بعض لکھ دیے گئے ہیں تاہم یہ بھی واضح رہے کہ ان میں سے کسی سبب کو مکمل طور پر سمجھنا ہو یا اس پر عمل کرنا ہو، اس کے لیے مندرجہ بالا تعریف وتشریح ناکافی ہے، بلکہ ایسے موقع پر متعلقہ مسئلہ لکھ  کر دارالافتاء سے رجوع کر لیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے