بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد حمل گرانا


سوال

حمل گروانا جائز ہے یا نہیں؟ پہلے جیٹھ  نے فون پر بیہودہ میسج کیے، شوہر کو بتایا تو شوہر نے نمبر تبدیل کروا دیا، کچھ دن بعد شوہر کے باپ (سسر) نے پہلے بیہودہ گفتگو شروع کی اور پھر ایک دن جب ساس گھر  میں موجود نہیں تھی بہو پر بد نیتی سے ہاتھ ڈالا،  بہو نے بھاگ کر خود کو باتھ روم میں بند کیا اور شوہر کو فون پر پوری تفصیل بتائی، شوہر نے اپنی ماں کو فون کیا جو شاپنگ پر گئی ہوئی تھی کہ فوری گھر پہنچو، جب تک ساس واپس نہیں آگئی بہو دو گھنٹہ باتھ روم میں بند رہی ، اس وقت بہو  ڈیڑھ  ماہ کی حاملہ تھی، بیوی نے شوہر  سے اپنے باپ کے گھر جانے کی اجازت مانگی جو اسے مل گئی،  دو تین دن بعد ہی شوہر نے طلاق نامہ بھجوادیا  جب کہ شوہر کو بیوی کے حاملہ ہونے کا علم بھی تھا۔

 ایسی صورت میں حمل قائم رکھنا لڑکی کے لیے ایک عذاب ہو گیا ہے، کیوں کہ لڑکی اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے اور ایسے گھر کا نطفہ شرعی لحاظ سے ضائع کرا دینے میں کوئی گناہ تو لازم نہیں ہوگا؟ کیوں کہ لڑکا مطلقہ کو نان نفقہ بھی نہیں دے رہا ، چہ جائیکہ وہ اپنے ٹھہرے ہوئے نطفے کے بارے میں کوئی استفسار کرے جس کا کوئی سرے سے امکان ہی نہیں رہا؟

جواب

اگر شوہر بیوی کو طلاق دے چکا ہے تو اس کی بیوی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے حمل کو ضائع کرے،  صرف اس نظریے اور سوچ کی وجہ سے حمل گرانا جاہلیت کے دور کا نظریہ ہے کہ اس بچے کے نان نفقہ کا بندوبست کون کرے گا؟!  فقط وا للہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں