بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی عدت


سوال

طلاق کی عدت تین حیض ہے، اگر کسی کو طلاق کے ایک ہفتے بعد حیض آجاۓ تو کیا وہ حیض شمار ہوگا؟اور کیا ٣حیض اگر ٣ مہینے سے پہلے ختم ہو جائیں تو عدت کی مدت پوری ہوجائےگی؟

جواب

طلاق کی عدت مکمل تین ماہواریاں ہیں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہوتو عدت وضع حمل ہے،  طلاق کے ایک ہفتہ بعد آنے والی ماہواری  عدت میں شمار ہوگی، اور تین مہینہ سے پہلے بھی تین حیض گزر جائیں تو عدت مکمل ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں