بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی عدت کس دن سے شمار ہوگی؟ دورانِ عدت ملازمت کا حکم


سوال

میرے سابق شوہر نے ستمبر کے آخری ہفتہ میں تحریری اور زبانی طلاق دی تھی، اور عدالت میں طلاق ڈیڈ جمع کرائی تھی جس پر نومبر کے آخری ہفتہ میں یہ فیصلہ آیا کہ یہ طلاق میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہوئی ہے۔

سابق شوہر کافی عرصہ سے میری اور میری بچیوں کی کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا رہا تھا ، وہ نشہ کا عادی ہے میں تین سالوں سے اپنے میکے میں رہتی ہوں، اور سات ماہ سے اپنے سابق شوہر سے کسی قسم کا تعلق نہیں تھا، مجھ پر میری بیٹیوں کی پوری ذمہ داری ہے ،  بچیوں کے والد نے کبھی ان کی اور میری ذمہ داری نہیں اٹھائی، میں ہی اپنا اور اپنی بچیوں کا سارا خرچہ خود اٹھاتی ہوں ، میں ایک اسکول میں نوکری کرتی ہوں والد صاحب ریٹائرڈ ہیں، میری نوکری ہی میرا واحد سہارہ ہے، والدہ نوکری کر کے میرے باقی بھائی بہنوں کے گرزربسر کا انتظام کرتی ہیں، جب کہ میں نوکری کرکے والد، اپنا اور اپنی بچیوں کا خرچہ چلاتی ہوں۔

سوال یہ ہے کہ میری طلاق کی عدت ستمبر سے شمار ہوگی جب میرے شوہر نے مچھے زبانی و تحریر طلاق دی تھی یا عدت کا آغاز نومبر میں جب کورٹ نے فیصلہ دیا تب سے ہوگا؟

جو صورتِ حال لکھی ہے اس میں کیا میں عدت کے دوران اپنے اور بچیوں کے گرز بسر کے لیے اسکول کی نوکری جاری رکھ سکتی ہوں؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جب ستمبر میں آپ کو طلاق دی تھی اس کے ساتھ ہی عدت کا آغاز ہوگیا تھا، اور  اسی وقت سے آپ پر  عدت کے طور پر  تین ماہواریاں  گزار نا لازم  ہے، پس اگر ستمبر سے اب تک تین ماہواریاں آپ گزار چکی ہوں تو  آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے، اور آپ مکمل طور آزاد ہوچکی ہیں، اور اگر اب تین  ماہواریاں نہیں گزری ہوں تو اس صورت میں تین ماہواریاں پوری ہونے تک آپ کی عدت جاری رہے گی اور اس دوران عدت کی تمام پابندیوں کا لحاظ رکھنا آپ پر لازم ہوگا۔

2۔ ستمبر سے اب تک اگر عدت مکمل ہوچکی ہو تو آپ اسکول کی نوکری جاری رکھ سکتی ہیں، اور اگر اب تک عدت مکمل نہیں ہوئی ہو اور آپ کے اور بچیوں کے نان و نفقہ کے اخراجات اٹھانے والا واقعۃً  اگر کوئی نہیں ہے تو مجبوراً  باپردہ گھر سے نکل سکتی ہیں اور اپنی نوکری جاری رکھ سکتی ہیں، اور وہاں مکمل باپردہ رہنا ضروری ہوگا، نیز نوکری کے اوقات مکمل ہوتے ہی فورا گھر آنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے