بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا مسئلہ


سوال

1- اگر طلاق کے الفاظ یہ ہوں: ’’اگر آپ نے میری بات نہ سنی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا‘‘ تو طلاق کا کیا حکم ہے؟

2- اگر طلاق کے الفاظ یہ ہوں کہ ’’میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں‘‘ تو پوری طلاق واقع ہو جاتی ہے?

جواب

1- مذکورہ الفاظ  سے طلاق واقع نہیں ہوگی؛ اس لیے کہ اس میں مستقبل میں طلاق دینے کی بات کی گئی ہے۔

2- دوسرے جملے سے ایک طلاق واقع ہوگی، عدت کے اندر رجوع کا حق ہوگا، اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، تاہم باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، بہرحال آئندہ مزید دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200094

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے