بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا خیال آنے سے طلاق نہیں ہوتی


سوال

1۔۔ زید کی بیوی بیمار تھی ، زید نے کہا: گھرچلی جا، دل میں یہ تھا کہ وہاں جاکر علاج کرلے، لیکن اس وقت جب یہ کہا : گھرچلی جا تو دل میں یہ خیال بھی اگیا کیوں کہ میں نے طلاق دے دی ہے حال آں کہ جب یہ کہا: گھر چلی جا تو اس وقت خیال نہیں آیاتھا جب کہہ دیا کہ گھر چلی جاؤ اس وقت دل میں یہ خیال آیا کہ میں نے طلاق دے دیہے، جملہ بولتے وقت طلاق کا خیال نہیں آیا، بلکہ جملہ کے مکمل ہونے کے بعد فوراً ہی طلاق کا خیال آیا؟

2۔۔  اگر بیوی سے یہ کہے  "جا بے وفا تجھے پیار نہیں کرنا" جوکہ گانے کا بول ہے تو کیا طلاق واقع ہوگی؟ اور اگر نیت طلاق کی تھی یانہیں یہ یاد نہ ہوتو کیاحکم ہے؟ اسی طرح اگر بیوی سے کہے مجھے تیری ضرورت نہیں اور طلاق کی نیت یاد نہ ہوکہ اس وقت کی تھی یانہیں تو کیا حکم ہے؟  دونوں سوالوں میں نہ کوئی جھگڑا ہوا اور نہ ہی طلاق کی کوئی بات  تھی الفاظ کنایہ میں نیت کا اعتبار کس وقت ہوتاہے ؟

میرامسئلہ  یہ ہے کہ میں جب بول دیتاہوں تو کچھ دیر بعد خیال أتا ہے کہ کہیں میں نے جملہ کنایہ نہ بول دیا ہو اور کہیں نیت نہ کرلی ہو اور دل میں  یہ وسوسہ آتا ہے کہ شاید نیت کرلی ہو اور بعض اوقات مجھے بہت وسوسہ طلاق کاأتا ہے جس کی وجہ سے بیوی سے بات کرتے ڈرتاہوں کہیں  طلاق کاخیال نہ آجائے۔

جواب

محض طلاق کا خیال آنے سے یا وسوسہ آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لیے وسوسوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ باقی گانے سننا  شرعاً درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200410

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے