بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا ادھورا جملہ


سوال

ایک آدمی نے والد اور بھائیوں کے ساتھ کسی گھریلو مسئلہ پر جھگڑے کے دوران کہا تھا کہ آئندہ تنگ کیا تو بیوی کو طلاق دے دوں گا، پھر چند دن گھر میں بھائیوں کے ساتھ جھگڑا ہوا تو اس آدمی نے غصہ میں صرف اتنا کہا کہ  "مجھ پر تین طلاقوں کے ساتھ"  اور آ گے کچھ بولنے سے پہلے اس کے منہ پر والد صاحب نے ہاتھ رکھ دیا جس کی وجہ سے وہ باقی کسی لفظ کا تلفظ نہ کر سکا، پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ کیا اس طرح ناقص جملہ ( یعنی حکم سے خالی جملہ) سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً  آدمی سے مذکورہ جملہ ("مجھ پر تین طلاقوں کے ساتھ")ناقص طور پر ادا ہوا تھا، جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی والد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا جس کی وجہ سے جملہ پورا ادا نہیں کرسکا تو اس صورت میں مذکورہ خط کشیدہ ناقص جملہ کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وركنه لفظ مخصوص.

(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالةً على معنى الطلاق من صريح أو كناية، فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكمًا؛ ليدخل الكتابة المستبينة، وإشارة الأخرس، والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله: أنت طالق هكذا، كما سيأتي". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012201375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں