بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق نامے پر اپنے اختیار سے دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے


سوال

میری بیوی مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی،  میں نے بہت سمجھایا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا، تمہارا جو مسئلہ ہے بتاؤ ، بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرتے ہیں، لیکن اس نے اصرار جاری رکھا تو مجبوراً میں نے کورٹ سے آئے ہوئے طلاق کے کاغذات پر دستخط کردیے، اب بتائیے کہ کیا میری رضامندی نہ ہونے کے باوجود ان کے اصرار پر دستخط کرنے سے یہ طلاق  واقع ہوگئی؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں دلی رضامندی نہ ہونے کے باوجود چوں کہ  آپ نے اپنے اختیار سے  کورٹ سے آئے طلاق نامے پر دستخط کیے ہیں، اس لیے طلاق واقع ہوگئی۔ البتہ آپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس میں کیا الفاظ لکھے تھے؟  اور کتنی مرتبہ لکھے گئے تھے؟  مسئلے کی تکمیل کا تعلق درج شدہ الفاظ اور ان کی تعداد سے ہے، اسی کی روشنی میں جواب دیا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144012200721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے