بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق دینے کے بعد یہ دعوی کرنا کہ طلاق نہیں کہا بلکہ الاق کہا ہے


سوال

میرے والد نے میری والدہ کو ایک ساتھ تین طلاق دی ہیں،  گواہ میرے بالغ بہن بھائی موجود تھے، اب والد کا غصہ ختم ہونے کے بعد والد بولتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں کہا ، " الاق" کہا ہے،  اب آپ بتائیں طلاق ہوئی  یا نہیں؟

جواب

آپ کی والدہ نے اگر خود والد کی زبان سے  طلاق کا لفظ سنا ہے اور اس پر آپ کے بھائی بہن گواہ بھی ہیں تو اب والدہ کے  لیے جائز نہیں کہ وہ والد کے ساتھ تعلقات باقی رکھیں،  ان پر لازم ہے کہ  آپ کے والد سے علیحدگی اختیار کر لیں۔  اور اگر والد اپنی بات پر مصر ہوں تو وہ اپنا مسئلہ کسی مفتی کے رو برو  پیش کریں،  اور ان سے مسئلہ حل کرنے (اس نزاع کا فیصلہ کرنے)  کی درخواست کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201957

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں