بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

اگر کہہ دوں طلاق دیتا ہوں ...


سوال

ایک آدمی نے گھر میں اہلیہ سے کہا: جب بھی میں گھر آتا ہوں، تم غصہ ہوجاتی ہو ، تین لفظ ہیں، اگر میں کہہ دوں تو تو جدا ہوجائے گی،  وہ الفاظ یہ ہیں: ’’طلاق دیتا ہوں،  طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘.  تو کیا طلاق واقع ہوگئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جو بات کہی’’جب بھی گھر۔۔۔الخ‘‘ اگر یہ پوری بات کہتے ہوئے درمیان میں کوئی انقطاع نہیں تھا،  تسلسل اور اتصال تھا تو اس میں حال( ابھی طلاق دینا)  اور استقبال( طلاق کی دھمکی) دونوں کا احتمال ہے یعنی یہ مراد بھی ہوسکتی ہے اگر میں طلاق دیتا ہوں کہہ دوں تو تو جدا ہوجائے گی، اس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی، یایہ بھی احتمال ہے کہ وہ الفاظ ابھی کہہ دیتا ہوں، اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی، لہذا شوہر اگر قسم کھا کر ابھی طلاق دینے کی نیت ہونے کا انکار کردے تو اس کی بات تسلیم کی جائے گی اور طلاق نہ ہوگی، اور اگر ’’وہ الفاظ یہ ہیں، طلاق۔۔۔الخ‘‘ کا پچھلی بات سے اتصال نہیں تھا اور پچھلی بات کے تسلسل میں یہ بات نہیں کہی تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144105201096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں