بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ضیافت کی مختلف اقسام اور ان کا حکم


سوال

آج کل ضیافت کی بہت ساری اقسام پائی جاتی ہیں، مثلاً شادی کی دعوت، منگنی کی دعوت ، ولیمہ کی دعوت اور ختنہ خوشی کی دعوت، غرض ایسی بہت ساری دعوتیں کی جاتی ہیں، سوال یہ ہے کہ اسلام میں میں کتنی قسم کی دعوتیں جائز ہیں؟ اور شرعاً اس کا ثبوت ہے؟

جواب

مہمانی نوازی اور اکرامِ مسلم کی غرض سے دعوت فی نفسہ جائز بلکہ مستحسن چیز ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی ترغیب آئی ہے، تاہم ولیمہ کی دعوت کے علاوہ باقی ضیافتوں کا سنت ہونا منقول نہیں ہے، اس لیے ولیمہ کی دعوت تو سنت ہے، باقی اس کے علاوہ رخصتی کی دعوت، منگنی کی دعوت، ختنہ کی دعوت کو اگر لازم نہ سمجھا جائے اور ان کے سنت ہونے کا اعتقاد نہ رکھا جائے، اور نہ کرنے والوں پر طعن وتشنیع نہ ہو، اور ان دعوتوں میں کوئی خلاف شرع امور  نہ ہوں، بلکہ مہمانوں کے اکرام کے طور پر دعوت کردی جائے تو یہ مباح ہے۔ اور میت کے گھروالوں کی طرف سے کی گئی دعوت مکروہ ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (20 / 336):
" قال الحنفية: وليمة العرس سنة وفيها مثوبة عظيمة. وقال المالكية: وليمة العرس مندوبة، وقيل واجبة. وقال الشافعية: وليمة العرس وغيره سنة؛ لثبوتها عنه صلى الله عليه وسلم قولاً وفعلاً.
وقال الحنابلة: الأصل في جميع الدعوات المسماة وغير المسماة أنها جائزة، أي مباحة، لأن الأصل في الأشياء الإباحة. ويستثنى من ذلك ثلاثة أنواع وهي: وليمة العرس فإنها سنة مؤكدة، وقيل واجبة، والعقيقة فإنها سنة، والمأتم فإنه مكروه وهو اجتماع النساء في الموت. وفي المغني خلاف ذلك، قال: حكم الدعوة للختان وسائر الدعوات غير الوليمة أنها مستحبة". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے