بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ضرورت کے سامان میں زکات


سوال

 کپڑے اور برتنوں کا حساب کیسے کیا جائے گا؟  ضرورت سے زائدچیزوں کی قیمت لگائی جائے گی؟ اورقیمت کس حساب سے لگائی جائےگی؟

جواب

زکات فرض ہونے کے لیے ضرورت سے زائد سامان یا مال ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ ضرورت سے زائد مال یا سامان کے لیے نامی (بڑھنے والا) ہونا ضروری ہے، اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور سائمہ (سال کا اکثر حصہ خود چرنے والے) جانور ہیں، مالِ نامی پر بھی مخصوص نصاب پورا ہونے اور سال گزرنے کے بعد زکات واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کپڑے یا برتن وغیرہ تجارت کے لیے نہیں ہیں تو  زکات ادا کرنے کے لیے ان کی قیمت نہیں لگائی جائے گی۔

 البتہ اگر کسی شخص (مرد یا عورت) کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے یا برتن وغیرہ ہوں (جو سال میں ایک مرتبہ بھی استعمال نہ ہوتے ہوں) اور اس سامان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی لازم ہوتی ہے، اور  یہ شخص زکات وصول نہیں کرسکتا۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے