بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

صلاۃ الکسوف گاؤں میں جماعت کے ساتھ پڑھنا


سوال

’’صلاۃ الکسوف‘‘  گاؤں میں جماعت کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

فقہاءِ کرام نے جامع مسجد یا عیدگاہ میں بڑی جماعت کے ساتھ صلاۃ الکسوف ادا کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے،بالفاظِ دیگر اس میں جمعہ والی شرائط کا ہونا ضروری نہیں، اصل حکم یہ ہے کہ  سورج گرہن کے موقع پر مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت ہے،  یعنی جس مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جاتی ہو اس میں سورج گرہن کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ لہٰذا گاؤں میں بھی جماعت کے ساتھ کسوف کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (11 / 35):
"( باب صلاة الكسوف جماعة )
أي هذا باب في بيان صلاة الكسوف بالجماعة، أشار بهذا إلى أن صلاة الكسوف بالجماعة سنة، وقال صاحب الذخيرة من أصحابنا: الجماعة فيها سنة، ويصلي بهم الإمام الذي يصلي الجمعة والعيدين، وفي ( المرغيناني ) يؤمهم فيها إمام حيهم بإذن السلطان؛ لأن اجتماع الناس ربما أوجب فتنةً وخللًا، ولايصلون في مساجدهم بل يصلون جماعةً واحدةً، ولو لم يقمها الإمام صلى الناس فرادى، وفي ( مبسوط ) بكر عن أبي حنيفة في غير رواية الأصول: لكل إمام مسجد أن يصلي بجماعة في مسجده، وكذا في ( المحيط )، وقال الإسبيجابي: لكن بإذن الإمام الأعظم، وقال بعضهم: باب صلاة الكسوف جماعة أي وإن لم يحضر الإمام، قلت: إذا لم يكن الإمام حاضرًا كيف يصلون جماعةً؟ ولاتكون الصلاة بالجماعة إلا إذا كان فيهم إمام، فإن لم يكن إمام وصلوا فرادى لايقال: صلوا بجماعة، وإن كانوا جماعات ..." الخ

رد المحتار على الدر المختار:

"(قوله: من یملك إقامة الجمعة) وعن أبي حنیفة في غیر روایة الأصول: لکل إمام مسجد أن یصلي بجماعة في مسجده، والصحیح ظاهر الروایة، وهو أنه لایقیمها إلا الذي یصلي بالناس الجمعة، کذا في البدائع، نهر. (قوله: بیان للمستحب) أي: قوله: "یصلي بالناس" بیان للمستحبّ، وهو فعلها بالجماعة، أي: إذا وجد إمام الجمعة، و إلا فلاتستحب الجماعة، بل تصلی فرادی؛ إذا لایقمیما غیره کما علمته، (قوله: ردّه في البحر) أي: بتصریح الإسبیجابي بأنه یستحب فیها ثلاثة أشیاء: الإمام، و الوقت أي: الذي یباح فیه التطوع، والموضع أي مصلی العید أو المسجد الجامع، اهـ وقوله: الإمام أي: الاقتداء به.

وحاصله: أنها تصحّ بالجماعة وبدونها، والمستحبّ الأوّل، لکن إذا صلیت بجماعة لایقیمها إلا السلطان و مأذونه، کما مرّ أنه ظاهر الروایة". (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الکسوف، (2/181،182) ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200960

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے