بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

صدمہ سے الفاظ طلاق دہرانے کا حکم


سوال

شوہر نے ایک دفعہ اپنی ساس کو گواہ بنا کر کہا: ’’امی آپ گواہ ہیں، میں آپ کی بیٹی کو طلاق دے رہا ہوں‘‘۔  پھر دوسرا فقرہ صدمے سے یہ کہا: ’’میں نے آپ کی بیٹی کو چھوڑ دیا‘‘۔ اب کتنی طلاق واقع ہوئیں اور رجوع کی کیا صورت ہے ؟

جواب

جب شوہر نے اپنی بیوی کے متعلق اپنی ساس کو یہ کہا کہ ’’امی آپ گواہ ہیں، میں آپ کی بیٹی کو طلاق دے رہا ہوں‘‘ تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہو گئی، اور دوسری مرتبہ جب  یہ کہا کہ ’’میں نے آپ کی بیٹی کو چھوڑ دیا‘‘  تو اس جملہ سے دوسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔

عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے یہ کہہ دے کہ میں نے رجوع کیا، ایسا کہنے سے رجوع ہو جائے گا اور اس صورت میں آئندہ کے لیے ایک طلاق کا حق حاصل ہو گا۔

البتہ اگر  دونوں جملوں سے ایک ہی طلاق مراد  تھی، الگ الگ طلاقیں مراد نہیں تھیں، تو  ایک طلاق واقع ہو گی،  یعنی جب یہ جملہ کہا کہ ’’میں آپ کی بیٹی کو طلاق دے رہا ہوں‘‘ تو اس سے طلاق دینے کے ارادے کا اظہار کیا، پھر دوسرے جملہ سے طلاق دے دی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں