بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کے ہاں سے دیے گئے گوشت کا حکم


سوال

شیعہ کے ہاں سے دیاگیا بکرے کا گوشت کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو شیعہ ضروریاتِ دین  کا منکر ہو، (مثلاً: قرآنِ مجید میں تحریف یا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی الوہیت یا حضرت جبرئیل  کے وحی لانے میں  غلطی کا قائل ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی پر بہتان باندھتا ہو وغیرہ ) تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔لہذا اگر دیاگیا گوشت اسی طرح کے فرد کے ہاتھوں ذبح کردہ جانور کا ہے تو اسے کھانا جائز نہیں، تاہم اگر یہ معلوم ہوکہ ذبیحہ سنی کا ہے تواس صورت میں دیے گئے  گوشت کھانے میں حرج نہیں۔اور ذبیحہ کاعلم نہ ہوتو شبہ کی بناپر اجتناب کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔

"لا شك في تکفیر من قذف السیدة عائشة رضي اللّٰه عنها أو أنکر صحبة الصدیق أو اعتقد الألوهیة في علي أو أن جبرئیل غلط في الوحي أو نحو ذلك من الکفر الصریح المخالف للقرآن". (ردالمحتار، باب المرتد / مطلب مهم: في حکم سب الشیخین ۴؍۲۳۷)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے