بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

شیعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے صحیح العقیدہ شخص سے نکاح کا حکم


سوال

میرا تعلق اہلِ تشیع قبیلے سے ہے، لیکن اپنے سوال سے پہلے میں یہ بات واضح کر دوں کہ میرا اس بات پر عقیدہ ہے کہ قرآنِ مجیدغیر تحریف شدہ ہے،  اور حضرت ابو بکر صحابی رسول اور بی بی عائشہ ام المومنین ہیں، علاوہ اس کے میں ہر اس بات سے براءت و بے زاری رکھتا ہوں جس میں وحی کا نزول حضرت علی کے لیے تھا اور حضرت محمد ﷺ پر غلطی سے نازل ہو گئی یا اس قسم کے دوسرے کفریہ عقائد، باقی جملہ اعمال و عقائد پر میں اپنی استطاعت و وقت کی اجازت کے ساتھ کتب بینی و اہلِ علم سے ملاقات کے ذریعے سے درستی کی کوشش کر رہا ہوں۔ جملہ معاملات کے لیے جولوگ میری راہ نمائی کرتے ہیں ان میں ایک خاتون اہلِ  سنت و الجماعت سے ہیں،  میں شرعی پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے ان سے نکاح کی خواہش رکھتا ہوں،البتہ ان کی اور ان کے گھر والوں کی تسلی کے لیے آپ سے فتوی چاہتا ہوں ۔

جواب

اگر واقعۃً  سائل کا یہ عقیدہ نہیں کہ قرآنِ  کریم میں تحریف (ردوبدل) ہوئی ہے، شیعہ کے جو بارہ امام ہیں ان کےبارے میں اس بات کا قائل  نہ ہوکہ ان کی امامت اللہ جل شانہ کی طرف سےہےاورامام گناہ سے معصوم ہوتا ہے، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان نہ باندھتاہو  اور اہل تشیع مذہب سے بے زاری کا اظہار اور اہلِ  سنت مسلک کو قبول کرتا ہو تو اس کے لیے مذکورہ خاتون سے نکاح کرنا جائز ہے۔ 

واضح رہے کہ آئندہ کے لیے ان کی دینی محفل اور مجلس میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي  أو كان ينكر صحبة الصديق أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر، كما أوضحته في كتابي "تنبيه الولاة والحكام على أحكام شاتم خير الأنام أو أحد أصابه الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام".( كتاب النكاح ۳/ ۴٦ ط: سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200121

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں