بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شیزوفرینیا کی بیماری میں دی ہوئی طلاق


سوال

کیا دماغی طور سے بیمار شخص جسے شیزوفرینیا جیسا مہلک مرض لاحق ہو   جس کا دماغ بغیر دوا کھائے ٹھیک نہ رہتا ہو ، جس کی یاد داشت بہت حد تک چلی گئی ہو، دوا سے نیند ٹھیک آتی ہو،  جسے غصہ بہت آتا ہو اور دوا سے کنٹرول میں رہتا ہو۔ خود اپنی بیوی کو پرچی پر لکھ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہے۔تو واقع ہو جائے گی؟

جواب

اس شخص کی دماغی کیفیت طلاق دیتے وقت اگربایں معنی  درست نہ تھی کہ اس کے حواس بحال نہ تھے اور عقل مغلوب تھی  تو اس کی لکھ کر دی گئی طلاق واقع نہ ہو گی اور اگر طلاق لکھتے  وقت اس کی دماغی کیفیت درست تھی یعنی عقل بحال اور حواس درست تھے تو اس کی دی ہوئی طلاقیں واقع ہیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 353):
"(فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه) يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغاً عاقلاً سواء كان حرا أو عبداً طائعاً أو مكرهاً، كذا في الجوهرة النيرة".

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 73):
" عن قتادة قال: «الجنون جنونان، فإن كان لا يفيق، لم يجز له طلاق، وإن كان يفيق فطلق في حال إفاقته، لزمه ذلك»".

الفتاوى الهندية (1/ 353):
"ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش، هكذا في فتح القدير". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200831

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں