بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شیر، بندر و دیگر جانوروں کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

 آج کل بعض امیر لوگ گھروں میں بندر ،شیر وغیرہ رکھتے ہیں ۔ان کو خریدنا کیساہے؟اور ان کو بیچنے کا کیا حکم ہے؟براہِ کرم دلائل سے مزین جامع جواب عنایت فرمائیں!

جواب

حلال جانوروں کے علاوہ دیگر  جانوروں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ جانور جسے سدھا کر شکار کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہو، یا اس کی کھال سے نفع اٹھایا جا سکتا ہو، اس کی خرید و فروخت کی شرعاً اجازت ہوگی، پس صورتِ مسئولہ میں شیر و دیگر درندوں کے ایسے  بچوں کی خرید و فروخت جائز ہے، جنہیں سدھانا ممکن ہو، اسی طرح سے اس شیر  کی خرید و فروخت کی بھی اجازت ہے، جسے  سدھایا جا سکتا ہو، تاہم چیتے کی خرید و فروخت (جب کہ شوقیہ ہو) کی شرعاً اجازت نہیں؛ کیوں کہ خلقاً اس میں سدھائے جانے کی صلاحیت نہیں ہوتی، البتہ اگر چیتے کی کھال سے فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں خرید و فروخت کی گنجائش ہوگی۔

نیز بندر کی  خرید و فروخت کے بارے میں امام ابو حنیفہ  کے  دو قول ملتے ہیں،  پہلا قول  بروایت امام  حسن بن زیاد رحمہ اللہ جواز کا ہے،  وجہ یہ ہے کہ بندر کی کھال سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے، اور  قاعدہ یہ ہے کہ ہر  جان دار جس کی کھال سے استفادہ ممکن ہو اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔

جب کہ دوسرا قول بروایت امام ابو  یوسف رحمہ ممانعت کا ہے،  وہ فرماتے ہیں کہ بندر  میں  لہو لعب کے علاوہ  کچھ نہیں، جس کی وجہ سے اس میں جہتِ حرمت غالب ہے۔

 بلی کی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔

تاہم، سور ( خنزیر) ،  چوہا، گوہ ، جھینگر، لال بیگ، بچھو، چھپکلی، گرگٹ،  ہیج ہاگ، مینڈک، کیکڑے و دیگر   کیڑے مکوڑوں  کی خرید و فروخت جائز نہیں۔

فتح القدیر شرح الہدایہ میں ہے:

"(قوله: ويجوز بيع الكلب والفهد والسباع ، المعلم وغير المعلم في ذلك سواء) هكذا أطلق في الأصل ، فمشى بعضهم على إطلاقه كالقدوري.

وفي نوادر هشام عن محمد : نص على جواز بيع الكلب العقور وتضمين من قتله قيمته . وروى الفضل بن غانم عن أبي يوسف نصه على منع بيع العقور ، وعلى هذا مشى في المبسوط فقال : يجوز بيع الكلب إذا كان بحال يقبل التعليم .

ونقل في النوادر أنه يجوز بيع الجرو لأنه يقبل التعليم ، وإنما لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم ، وقال : هذا هو الصحيح من المذهب .

قال : وهكذا نقول في الأسد إذا كان يقبل التعليم ويصطاد به يجوز بيعه ، وإن كان لا يقبل التعليم والاصطياد به لا يجوز ، قال : والفهد والبازي يقبلان التعليم فيجوز بيعهما على كل حال انتهى.

فعلى هذا ينبغي أن لا يجوز بيع النمر بحال لأنه لشره لايقبل تعليماً.

وفي بيع القرد روايتان عن أبي حنيفة : رواية الحسن الجواز ، ورواية أبي يوسف بالمنع .

وقال أبو يوسف : أكره بيعه لأنه لا منفعة له إنما هو للهو وهذه جهة محرمة .

وجه رواية الجواز أنه يمكن الانتفاع بجلده وهذا هو وجه رواية إطلاق بيع الكلب والسباع فإنه مبني على أن كل ما يمكن الانتفاع بجلده أو عظمه يجوز بيعه.

ويجوز بيع الهرة لأنها تصطاد الفأر والهوام المؤذية فهي منتفع بها ، ولايجوز بيع هوام الأرض كالخنافس والعقارب والفأرة والنمل والوزغ والقنافذ والضب ، ولا هوام البحر كالضفدع والسرطان .

وذكر أبو الليث أنه يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها في الأدوية وإن لم ينتفع فلا يجوز". (كتاب البيوع، مسائل منثورة، ٧ / ١١٨)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200494

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں