بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شوہر یا بیوی کے انتقال کے بعد سسر یا ساس سے نکاح جائز نہیں ہے


سوال

کیا شوہر کے انتقال کے بعد سسر کا بہو سے یا بیوی کے انتقال کے بعد ساس کا داماد سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

شوہر کے انتقال کے بعد سسر کا بہو سے نکاح جائز نہیں ہے، اور اسی طرح بیوی کے انتقال کے بعد داماد کا ساس سے نکاح بھی ناجائز ہے۔

"الحرمة المؤبدة بالسبب، وأما السبب فهو على عشرة أوجه وهي  الرضاع والصهرية …" وأما الصهر فهم أربعة أصناف: أحدهم: أبو الزوج والجدود من قبل أبويه وإن علوا، يحرمون على المرأة وتحرم هي عليهم، دخل بها أو لم يدخل بها؛ لقوله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}. والثاني: أم المرأة وجداتها من قبل أبويها وإن علون، يحرمن على الرجل ويحرم هو عليهن دخل بها أو لم يدخل؛ لقوله تعالى: {وأمهات نسائكم}". (النتف في الفتاوى للسغدي ، 253،254/1، دار الفرقان)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200490

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے