بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے انتقال کے بعد بیوہ کا نکاح کرنا


سوال

 میرے بھائی کے انتقال کے بعد میری بھابھی سے گھر کے افراد نے دیور سے نکاح کے لیے بولا تو بھابھی نے انکار کیا کہ بڑے جو ہیں،  وہ میرے بھائی ہیں،  چھوٹے بچوں کی طرح ہیں،  مگر وہ اپنے گھر اپنے بھائیو ں کے  پاس چلی گئیں اور  2سال بعد شادی کرلی تو کیا یہ طریقہ جائز ہے کہ ہم اس کو زبردستی اپنے نکاح میں رکھیں؟

جواب

شوہر کے انتقال کے بعد عدت مکمل ہونے کے ساتھ ہی مرحوم کی بیوہ اس کے نکاح سے مکمل طور پر آزاد ہوجاتی ہے، اور اپنی بقیہ زندگی کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے شرعاً سسرال والوں کو اس بات کا حق نہیں ہوتا کہ وہ دیور یا جیٹھ سے نکاح کرنے پر اسے مجبور کرسکیں، لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون نے اپنے دیور یا جیٹھ میں سے کسی ایک سے بھی نکاح کرنے سے انکار کے بعد اپنی مرضی سے کہیں اور نکاح کرلیا تو اس میں شرعاً  کوئی قباحت نہیں، اور نہ ہی ان کے اس اقدام پر کسی کو ملامت کا حق حاصل ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے