بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شوہر کو برائی سے روکنا


سوال

میرا شوہر  اگر کوئی برے کام کرے  اور میں ان کی وہ باتیں ان کے ماں باپ کو بتاؤں صرف اس لیے کے وہ ان کو سمجھا سکیں؛  کیوں کہ وہ میری بات نہیں مانتے۔ تو کیا یہ چیز چغلی ہے؟  میں خود ان کو ان چیزوں سے نہیں روک سکتی؛  اس لیے ان کے ما ں باپ کو بتاتی ہوں کہ وہ ان کو روک لیں۔ کیا یہ چیز چغلی یا اور کسی برائی کے زمرے میں آتی ہیں؟

جواب

شریعت میں ازدواجی رشتے سے ایک اہم مقصود یہ بھی ہے کہ میاں بیوی دونوں نیک کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار ہوں اور برے کاموں سے ایک دوسرے کو بچائیں، بسااوقات فریقین میں سے ایک نیک اور دوسرا فریق برائی میں مبتلا ہوتاہے، تو دوسرے فریق کو حکمت سے سمجھاناچاہیے، لہذا اگر شوہر برے کاموں میں مبتلا ہیں تو آپ انہیں حسنِ تدبیر اور اچھے اخلاق کے ذریعہ نیکی کے راستے پر لانے کی کوشش کریں۔والدین کو مطلع کرنا چغلخوری کے زمرہ میں شامل نہیں، لیکن اس طریقے سے بداعتمادی یا باہمی اختلاف اور نزاع کا خدشہ رہتاہے، البتہ اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ کے شوہر اس طرز سے اشتعال میں نہیں آئیں گے اور گھریلو معاملات اس وجہ سے نہیں الجھیں گے تو آپ ان کے والدین کو حکمت وبصیرت کے ساتھ مطع کرسکتی ہیں۔لیکن اگر ایسا نہ ہو، تو انہیں مطلع کرنے کے بجائے خود ان کی اصلاح کی کوشش کرتی رہیں، اگر وہ راہِ راست پر آجائیں تو بہتر،  ورنہ وہ اپنے برے عمل کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ آپ جائز کاموں میں ان کی اطاعت کو لازم رکھیں۔ بہرحال اخلاص اور حکمت کے ساتھ انہیں سمجھاتی رہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعابھی کرتی رہیں ، اس سے زیادہ آپ کے ذمہ نہیں۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل 6/325)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200816

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں