بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شرم گاہ میں دوا ڈالنے سے وضو اور غسل کے ٹوٹنے کا حکم


سوال

عورت کی شرم گاہ میں دوا ڈالنے سے اس کا وضو اور غسل باقی رہے گا یا ٹوٹ جائے گا؟ اور عورت نماز پڑھ سکتی ہے؟

جواب

وضو اور غسل کے ٹوٹنے کا تعلق جسم سے کسی نجس شے (چیز) کے نکلنے سے ہے، جب کہ دوائی کھانے یا جسم کے کسی بھی حصے میں ڈالنے سے جسم میں کوئی چیز داخل ہوتی ہے، خارج نہیں ہوتی ہے، اس لیے شرم گاہ میں صرف دوا ڈالنے سے وضو یا غسل نہیں ٹوٹتا ہے اور شرم گاہ میں دوا ڈالنے کے بعد عورت از سرِ نو وضو یا غسل کیے بغیر بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 24):

"وأما بيان ما ينقض الوضوء فالذي ينقضه الحدث. والكلام في الحدث في الأصل في موضعين: أحدهما: في بيان ماهيته، والثاني: في بيان حكمه، أما الأول فالحدث هو نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي فقد اختلف فيه، قال أصحابنا الثلاثة: هو خروج النجس من الآدمي الحي، سواء كان من السبيلين الدبر والذكر أو فرج المرأة، أو من غير السبيلين الجرح، والقرح، والأنف من الدم، والقيح، والرعاف، والقيء وسواء كان الخارج من السبيلين معتاداً كالبول، والغائط، والمني، والمذي، والودي، ودم الحيض، والنفاس، أو غير معتاد كدم الاستحاضة، ... (ولنا) ما روي عن أبي أمامة الباهلي - رضي الله عنه - أنه قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فغرفت له غرفة، فأكلها، فجاء المؤذن فقلت: الوضوء يا رسول الله، فقال صلى الله عليه وسلم: إنما علينا الوضوء مما يخرج ليس مما يدخل وعلق الحكم بكل ما يخرج أو بمطلق الخارج من غير اعتبار المخرج، إلا أن خروج الطاهر ليس بمراد، فبقي خروج النجس مراداً."فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے