بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1441ھ- 07 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

شارک کا حکم


سوال

شارک مچھلی حلال ہے یا نہیں؟

جواب

  سمندری مخلوقات میں سے صرف مچھلی کا کھانا حلال ہے ، مچھلی کے علاوہ کسی اور سمندری جانور کا کھانا جائز نہیں ہے، اور  ”شارک“ جس کو عامی زبان میں ” مگرا“ کہتے ہیں اور عربی زبان میں اس کو ”قرش “اور ”کوسج“  کہا جاتا ہے ، اہلِ لغت اور اہلِ لسان نےا س ( شارک  / مگرا ) کو مچھلی کی قسم میں سے شمار نہیں کیا، بلکہ یہ سمندری درندہ ہے، اس لیے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔

شارک سے متعلق مزید تفصیل  کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا تفصیلی فتوی ملاحظہ فرمائیں:

مگرا/ شارک کھانے کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200742

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں