بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

شادی کی تقریب کے لیے خریدی گئی گائے کے ایک حصہ میں عقیقہ کی نیت کرنے کا حکم


سوال

شادی کی تقریب کے لیے خریدی گئی گائے سے ایک حصہ عقیقہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

بڑے جانور  (گائے ، اونٹ وغیرہ) کے ایک حصے میں عقیقہ کی نیت کرنا جائز ہے بشرطیکہ بقیہ تمام حصوں میں بھی کسی قربت (مثلاً قربانی وغیرہ) کی نیت ہو، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر شادی کی تقریب سے مراد ولیمہ کی تقریب ہے تو  چوں کہ ولیمہ نکاح کے شکر اور سنت کی نیت سے کیا جاتا ہے؛ اس لیے ولیمہ بھی قربت ہے، لہٰذا ولیمہ کی نیت سے ذبح کی جانے والی گائے کے ایک حصہ میں عقیقہ کی نیت کر لی جائے تو عقیقہ ہوجائے گا، البتہ زیادہ بہتر یہی ہے کہ ولیمہ کے لیے ذبح کیے جانے والے جانور میں عقیقے کی نیت کے بجائے اس کے لیے الگ جانور ذبح کیا جائے۔

اور اگر شادی کی تقریب سے مراد  ولیمہ کے علاوہ کسی تقریب کا کھانا ہو، (مثلاً: نکاح کی دعوت)تو وہ تقریب  چوں کہ باقاعدہ سنت سے ثابت نہیں ہے؛  اس  لیے اسے قربت قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، اس لیے جو گائے نکاح کی دعوت کی نیت سے ذبح کی جائے اس کے ایک حصہ میں عقیقہ کی نیت کرنے سے عقیقہ ادا نہیں ہوگا۔ البتہ اس کے جواز  کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پوری گائے عقیقہ کی نیت سے ہی ذبح کی جائے، پھر  ذبح کرنے کے بعد اس گائے کے گوشت کو نکاح کی دعوت میں لوگوں کو کھلانا چاہیں تو اس کی گنجائش ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 326):
"(وإن) (كان شريك الستة نصرانيًا أو مريدًا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم؛ لأن الإراقة لاتتجزأ، هداية؛ لما مر.

 وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد، ولم يذكر الوليمة. وينبغي أن تجوز؛ لأنها تقام شكرًا لله تعالى على نعمة النكاح ووردت بها السنة، فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. وروي عن أبي حنيفة أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وأنه قال: لو كان من نوع واحد كان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف، بدائع". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200349

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں