بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1441ھ- 23 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

سینگ کاٹ کر قربانی کا جانور بیچنا


سوال

 کچھ قربانی کے جانوروں  کے قدرتی طور پے سینگ  نہیں ہوتے جن میں گائے، بکری، بیل وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن کچھ حضرات ان جانوروں کے سینگ  خوب صورتی کے لیے اور بیچنے کے لیے کاٹ دیتے ہیں۔ کیا ایسے جانوروں کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟  اور کیا جو حضرات محض جانور فروخت کرنے کے لیے یہ کہتے ہیں  کہ اس جانور کے پیدائشی سینگھ ہی نہیں ہیں، کیا وہ گناہ کے مرتکب ہیں یا نہیں؟

جواب

قربانی کے جن جانوروں کے  پیدائشی سینگ نہ ہوں یا سینگ ہوں، لیکن بعد میں ٹوٹ گئے ہوں یا کاٹ دیے ہوں تو ایسے جانوروں کی قربانی جائز ہے بشرطیکہ سینگ کاٹنے یا ٹوٹنے میں اس کا اثر جانور کے دماغ تک نہ پہنچا ہو۔ اور اگر سینگ کاٹنے میں یا ٹوٹنے میں اس کا اثر جانور کے دماغ تک پہنچا ہو اور عید الاضحٰی کے دنوں میں بھی وہ اثر موجود ہو تو عید الاضحی میں اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

سینگ کاٹ کر کسی جانور کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے پیدائشی سینگ نہیں تھے، یہ جھوٹ اور دھوکا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 323):
"(قوله: ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة، وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز، قهستاني، وفي البدائع: إن بلغ الكسر المشاش لايجزئ، والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين اهـ (قوله: والثولاء) بالمثلثة. في القاموس الثول بالتحريك استرخاء في أعضاء الشاة خاصةً، أو كالجنون يصيبها فلاتتبع الغنم وتستدير في مرتعها".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200781

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے