بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

سید کا بہن بھائیوں کو زکاۃ دینا


سوال

میں سید ہوں، میں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو زکاۃ دی، کیا زکاۃ ادا ہوگئی یا  نہیں؟ نہیں ہوئی تو  کیا کیا جائے؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: ’’یہ صدقات (زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ ) لوگوں کے مالوں کا میل کچیل ہیں، ان کے ذریعہ لوگوں کے نفوس اور اموال پاک ہوتے ہیں اور بلاشبہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے اور آلِ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے حلال نہیں ہے۔

«إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لاتحل لمحمد، ولا لآل محمد». (صحيح مسلم (2/ 754)

لہذا سید کو زکاۃ دینا جائز نہیں ہے، اگر سید غریب اور محتاج ہے تو صاحبِ حیثیت مال داروں پر لازم ہے کہ وہ سادات کی امداد زکاۃ اور صدقات واجبہ کے علاوہ رقم سے کریں اور ان کو مصیبت اور تکلیف سے نجات دلائیں اور یہ بڑا اجروثواب کا کام ہے اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کی دلیل ہے۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی شفاعت کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔  پس صورتِ مسئولہ میں آپ کی زکاۃ ادا نہیں ہوئی، آپ پر اپنی زکاۃ دوبارہ ادا کرنا لازم ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 265):

"(قوله: وبني هاشم ومواليهم) أي لايجوز الدفع لهم؛ لحديث البخاري: «نحن - أهل بيت - لاتحل لنا الصدقة». ولحديث أبي داود: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لاتحل لنا الصدقة»". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے