بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سونے پر زکات


سوال

سونے کی کتنی مقدار پر زکات دینا ضرور ی ہے؟ یعنی سونے کی کتنی مقدار پر زکات واجب ہوتی ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کی ملکیت میں موجود سونے کی مقدار ساڑھے سات تولہ سونا یا اس سے زائد ہو ،اس کے علاوہ چاندی،نقدی،مال تجارت کچھ نہ ہو تو قمری حساب سے سال گزرنے پر اس پر زکات واجب ہوگی، اس سے کم مقدار پر زکات واجب نہیں ہوگی۔ البتہ اگر سونے کے ساتھ چاندی یا نقدی یا مالِ تجارت موجود ہو تو پھر ساڑھے سات تولہ سونے کے نصاب کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ مجموعی مال کی مالیت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے تو سال گزرنے پر زکات واجب ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں