بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سونے سے پہلے مسبحات پڑھنے سے مراد کیا ہے؟


سوال

پانچ سورتوں کو حدیث میں مسبّحات سے تعبیر کیا گیا ہے، جن کے شروع میں سَبَّحَیا  یُسَبِّحُ  آیا ہے، ان میں سے پہلی سورت ’’حدید‘‘  ہے، دوسری ’’حشر‘‘، تیسری ’’صف‘‘، چوتھی ’’جمعہ‘‘، پانچویں ’’تغابن‘‘.

ابوداؤد، ترمذی، نسائی میں حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو سونے سے پہلے یہ ’’مسبّحات‘‘ پڑھا کرتے تھے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔  ابن کثیر نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ افضل آیت سورت حدید کی یہ آیت ہے: (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ)ان پانچ سورتوں میں سے تین یعنی حدید، حشر، صف ۔۔۔الخ

میرا سوال یہ ہے کے آیا پانچ  ’’مسبّحات‘‘ پڑھنے سے مراد پانچ سورتیں پڑھنا ہے  یا شروع کی آیات ؟

جواب

سونے سے پہلے ’’مسبّحات‘‘  پڑھنے سے مراد مکمل سورتیں پڑھنا ہے، نہ کہ مذکورہ سورتوں کی پہلی آیت، ملا علی قاری رحمہ اللہ نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ روایت کی تشریح کرتے ہوئے مرقاۃ  المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں اس بات کی صراحت کی ہے، اسی طرح تفسیر قرطبی میں بھی اس بات کی تصریح ملتی ہے۔

تفسیر قرطبی میں ہے:

"عن العرباض بن سارية أنّ النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ بالمسبّحات قبل أن يرقد ويقول: إنّ فيهنّ آيةً أفضل من ألف آية. يعني بالمسبحات: ( الحديد ) و ( الحشر ) و (الصف ) و ( الجمعة ) و ( التغابن )". ( سورة الحدید)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:

"وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِيهِنَّ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ»". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

٢١٥١ - (عَنِ الْعِرْبَاضِ) بِكَسْرِ الْعَيْنِ (ابْنِ سَارِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ) بِكَسْرِ الْبَاءِ نِسْبَةٌ مَجَازِيَّةٌ وَهِيَ السُّوَرُ الَّتِي فِي أَوَائِلِهَا سُبْحَانَ أَوْ سَبَّحَ بِالْمَاضِي أَوْ يُسَبِّحُ أَوْ سَبِّحْ بِالْأَمْرِ وَهِيَ سَبْعَةٌ: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى} [الإسراء: ١] وَالْحَدِيدُ وَالْحَشْرُ وَالصَّفُّ وَالْجُمْعَةُ وَالتَّغَابُنُ وَالْأَعْلَى (قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ)، أَيْ يَنَامَ (يَقُولُ:) اسْتِئْنَافٌ لِبَيَانِ الْحَامِلِ لَهُ عَلَى قِرَاءَةِ تِلْكَ السُّوَرِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ (إِنْ فِيهِنَّ)، أَيْ فِي الْمُسَبِّحَاتِ (آيَةٌ)، أَيْ عَظِيمَةٌ (خَيْرٌ)، أَيْ هِيَ خَيْرٌ (مِنْ أَلْفِ آيَةٍ) قِيلَ: هِيَ {لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ} وَهَذَا مِثْلُ اسْمِ اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ بَيْنِ سَائِرِ الْأَسْمَاءِ فِي الْفَضِيلَةِ فَعَلَى هَذَا فِيهِنَّ، أَيْ فِي مَجْمُوعِهِنَّ، وَعَنِ الْحَافِظِ ابْنِ كَثِيرٍ أَنَّهَا: {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الحديد: ٣] " اهـ وَالْأَظْهَرُ أَنَّهَا هِيَ الْآيَةُ الَّتِي صُدِّرَتْ بِالتَّسْبِيحِ، وَفِيهِنَّ بِمَعْنَى جَمِيعِهِنَّ، وَالْخَيْرِيَّةُ لِمَعْنَى الصِّفَةِ التَّنْزِيهِيَّةِ الْمُلْتَزِمَةِ لِلنُّعُوتِ الْإِثْبَاتِيَّةِ، وَقَالَ الطِّيبِيُّ: أَخْفَى الْآيَةَ فِيهَا كَإِخْفَاءِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي اللَّيَالِي وَإِخْفَاءِ سَاعَةِ الْإِجَابَةِ فِي يَوْمِ الْجُمْعَةِ مُحَافَظَةً عَلَى قِرَاءَةِ الْكُلِّ لِئَلَّا تَشُذَّ تِلْكَ الْآيَةُ. (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ) ، أَيْ عَنِ الْعِرْبَاضِ. (كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ، ٤ / ١٤٨٠، رقم الحدىث: ٢١٥١)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200407

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں