بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

پانچ لاک لے کر نو لاکھ لوٹانا سود ہے


سوال

زید اور بکر نے مشترک گاڑی چودہ لاکھ میں فروخت کردی، لیکن رقم پانچ ماہ بعد ملے گی، اب زید بکر سے کہتا ہے کہ آپ مجھے پانچ  لاکھ  ابھی دے دو ، پانچ ماہ بعد آپ نو لاکھ  لے لینا،  کیا ایسا معاملہ کرنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کا بکر سے یہ کہہ کر پانچ لاکھ روپے کی رقم لینا کہ "پانچ ماہ کے بعد جب رقم ملے گی پانچ لاکھ کے بدلے نو لاکھ لے لینا" ، (زید کا بکر سے یہ معاملہ کرنا)  سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، اور دی گئی رقم سے زائد رقم لینا صریح سود میں داخل ہے اور سود از روئے شرع ناجائز اور حرام ہے۔

وفی القرآن الکریم:

{أحل الله البيع وحرم الربوا} [البقرة: 275]

وفي بدائع الصنائع للكاساني:

"وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جرّ نفعًا". (فصل في شرائط ركن المضاربة 6/83، ط: سعيد)

(كذا في نصب الراية 4/60، ط: مؤسسة الريان)

وفي مصنف ابن أبي شيبة:

"حدثنا أبوبكر، قال: حدثنا حفص، عن أشعث، عن الحكم عن إبراهيم، قال: «كلّ قرض جرّ منفعةً، فهو ربًا»". (من كره كل قرض جرّ منفعةً 4/327، ط: مكتبة الرشد، الرياض)

وفي سنن أبي داود:

"حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود، عن أبيه، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله وشاهده وكاتبه»". (كتاب البيوع، باب في أكل الربوا وموكله 2/117، ط: حقانيه)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200626

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے