بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سنت شروع کرنے کے بعد توڑ دینا


سوال

اگر سنت نماز پڑھتے ہوئے کسی وجہ سے نماز ٹوٹ جائے یا نماز کے بعد پتا چل جائے کہ کسی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا تھا تو کیا وہ سنت دوبارہ پڑھنا واجب ہو جائے گا؟ اور اگر وقت نکل گیا ہو تو اس کی قضا پڑھنی ہوگی؟

جواب

سنت / نفل  نماز کو شروع کرنے کے بعد اسے پورا کرنا واجب ہے، اگر پورا کیے بغیر توڑ دی، یا درمیان میں وضو ٹوٹ گیا تو اس کی قضا کرنا واجب ہے۔
لمافي الدر المختار مع رد المحتار:
"(وَلَزِمَ نَفْلٌ شَرَعَ فِيهِ) بِتَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ أَوْ بِقِيَامِ الثَّالِثَةِ شُرُوعًا صَحِيحًا (قَصْدًا)".
وفي الشامیة تحته:

"(قَوْلُهُ: وَلَزِمَ نَفْلٌ إلَخْ) أَيْ لَزِمَ الْمُضِيُّ فِيهِ، حَتَّى إذَا أَفْسَدَهُ لَزِمَ قَضَاؤُهُ أَيْ قَضَاءُ رَكْعَتَيْنِ، وَإِنْ نَوَى أَكْثَرَ عَلَى مَا يَأْتِي، ثُمَّ هَذَا غَيْرُ خَاصٍّ بِالصَّلَاةِ وَإِنْ كَانَ الْمَقَامُ لَهَا. قَالَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ: اعْلَمْ أَنَّ الشُّرُوعَ فِي نَفْلِ الْعِبَادَةِ الَّتِي تَلْزَمُ بِالنَّذْرِ وَيَتَوَقَّفُ ابْتِدَاؤُهَا عَلَى مَا بَعْدَهُ فِي الصِّحَّةِ سَبَبٌ لِوُجُوبِ إتْمَامِهِ وَقَضَائِهِ إنْ فَسَدَ عِنْدَنَا وَعِنْدَ مَالِكٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَكَثِيرٍ مِنْ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ كَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَمَكْحُولٍ وَالنَّخَعِيِّ وَغَيْرِهِمْ، فَخَرَجَ الْوُضُوءُ وَسَجْدَةُ التِّلَاوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَسَفَرُ الْغَزْوِ وَنَحْوُهَا مِمَّا لَايَجِبُ بِالنَّذْرِ؛ لِكَوْنِهِ غَيْرَ مَقْصُودٍ لِذَاتِهِ، وَخَرَجَ مَا لَايَتَوَقَّفُ ابْتِدَاؤُهُ عَلَى مَا بَعْدَهُ فِي الصِّحَّةِ نَحْوُ الصَّدَقَةِ وَالْقِرَاءَةِ، وَكَذَا الِاعْتِكَافُ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ، وَدَخَلَ فِيهِ الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ وَالطَّوَافُ وَالِاعْتِكَافُ عَلَى قَوْلِهِمَا. اهـ". ( الدر المختار مع رد المحتار: کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل) فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144105200723

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں