بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سلسلہ شاذلیہ میں بیعت ہونا


سوال

آج کل تصوف کا ایک سلسلہ متعارف ہوا ہے جو سلسلہ شاذلیہ کے نام سے جانا جاتا ہے,  اس کے بارے میں راہ نمائی فرمادیں کہ آیا اس سلسلہ میں بیعت ہونا صحیح ہے،  جب کہ یہ سلسلہ خود کو علمائے دیوبند کی طرف منسوب کرتا ہے اور ان کا نام لیوا ہے؟

جواب

’’سلسلہ شاذلیہ‘‘  جدید سلسلہ نہیں ہے، یہ ساتویں صدی عیسوی کے بزرگ ابوالحسن علی شاذلی بن عبد ﷲ شریف حسینی المغربی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے،  نسباً ساداتِ بنی حسن میں سے ہیں۔  لیکن ہمارے ہاں اس کا سلسلہ محفوظ نہیں رہا، ہمارے بلاد میں بہتر یہ ہے کہ جو سلاسلِ اربعہ(نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ)مستند ومعتمد ہیں، ان سلاسل کے کسی مستند صاحبِ نسبت سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں، اور اگر کسی کے ہاں سلسلۂ شاذلیہ محفوظ ہو (جیساکہ عرب ممالک اور ترکی کے حوالے سے تحقیق سے معلوم ہواکہ وہاں یہ سلسلہ باقی ہے) تو وہاں بیعت کی جاسکتی ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200621

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے