بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سلامی میں ملنے والی نقدی اور سونا کس کی ملکیت ہوگا؟


سوال

ولیمہ میں ملنے والی سلامی، جس میں پیسے اور سونے کے سیٹ ہوتے ہیں، وہ ساس سسر بغیر پوچھے بغیر بتائے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، کیا ان کا ایسا کرنا صحیح ہے؟ ان پر ملکیت کس کی ہوتی ہے، دلہن کی یا ساس سسر کی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ولیمہ کے موقع پر جو  نقدی و سونا دلہن کے میکے سے دلہن کو یا اس کے شوہر کے ہاتھ میں، یا دولہا والوں کی طرف سے   دلہن کو نامزد کرکے دیا گیا ہو  خواہ ساس یا سسر کے ہاتھ میں دیا ہو یا دولہا یا دولہن کے ہاتھ میں دیا ہو، ان تمام صورتوں  میں مذکورہ نقدی و سونا ساس سسر کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہ ہوگی اور نہ ہی اس نقدی یا سونے پر ساس سسر کی ملکیت ہوگی، دولہن کے میکے سے ملنے والی نقدی و سونے پر، اور دولہا والوں کی جانب سے دولہن کے ہاتھ میں یا اسے نامزد کرکے دی جانے والی نقدی و سونے پر دولہن ہی کی ملکیت ہوگی، اور جو نقدی دولہا کو نامزد کرکے یا اس کے ہاتھ میں دی گئی ہوگی  اس پر دولہا کی ملکیت ہوگی۔

البتہ دولہا کے والد یا والدہ کے ہاتھ میں جو نقدی یا سونا کسی کو نامزد کیے بغیر دیا گیا ہو، اس کی ملکیت میں عرف کا اعتبار کیا  جائے گا، پس اگر دولہا کے گھرانے کا عرف ساس یا سسر کو دینے کا ہو تو وہ ساس سسر کے شمار ہوں گے، وگرنہ دلہا دلہن کے شمار ہوں گے، اسی طرح سے اگر کوئی عرف نہ ہو تو عرف عام کا اعتبار کرکے دلہن کی ملکیت قرار دیے جائیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں