بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

سفیر کے لیے چندہ کی رقم استعمال کرنا


سوال

 مدرسے کےسفیر کے پاس جو رقم ہوتی ہے نفلی صدقات وغیرہ کی، کیافی الحال اس کو اپنی ضروریات میں استعمال کرسکتا ہے، بعد میں اپنی تنخواہ سے کٹوادے، ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب

    سفیر حضرات کے لیے چندہ کے پیسوں کو اپنی ضروریات میں استعمال کرنا جائز نہیں،اگر ان کے پاس اپنے پیسے ختم ہوگئے تو گھر سے منگوالیں یا کسی اور سے قرض لے کر استعمال کریں۔یا متعلقہ ادارے سے اس کے ضابطے کے مطابق پیشگی تن خواہ وصول کرلیں. چندے کی رقم میں تصرف بہرحال جائز نہیں ہے. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200538

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے