بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سفر میں روزہ کا حکم اور سفر شرعی کی مقدار


سوال

کیا سفر کرنے والے کودورانِ سفر یعنی جب وہ سفر کر رہا ہو روزہ معاف ہے؟ اور کتنے دن عرصے یا میل کے سفر کرنے پر روزہ معاف ہے؟ اور اگر وہ اپنی منزل پر پہنچ کر روزہ رکھتا ہے تو اسے رمضان کے روزے کا پورا اجر ملے گا اور اسے روزہ چھوڑنے کا گناہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

 اگر سفر کی مسافت کی مقدار کم سے کم اڑتالیس میل (سو ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ ہے تو ایسے شخص کو اپنے شہر کے حدود سے نکلنے کے بعد روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہوگا، اور نہ رکھنے کی صورت میں بعد میں اس روزہ کی قضا کرنا لازم ہوگی، تاہم  اگر سفر کے دوران روزہ رکھنے  میں  سہولت ہے، دشواری نہیں  ہے تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے، اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو  اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت ہے، اور اگر شرعی سفر میں مشقت بہت زیادہ ہو (جس کا تحمل روزہ دار کے لیے مشکل ہو) تو روزہ نہ رکھنا بہترہے، بہر دو صورت بعد میں اس روزہ کی قضا کرلے۔ 

اور  شرعی طور پر اس شخص کے لیے سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے جو صبح صادق کے وقت سفر میں ہو اور شرعی مسافر بن چکا ہو( یعنی شہر کی حدود وغیرہ سے نکل چکاہو)، اور اگر کوئی شخص صبح صادق کے وقت سفر میں نہ ہو  اس کے لیے روزہ چھوڑناجائز نہیں اگرچہ دن میں اس کا سفر میں جانےکاارادہ ہو۔

شرعی مسافر اگر اپنے سفر کی منزل پر پہنچ جائے اور وہاں اس کا پندرہ دن سے کم قیام ہو تو وہاں بھی مسافر ہی شمار ہوگا، اور اگر پندرہ دن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو  پھر وہ مسافر نہیں ہوگا، بلکہ مقیم ہوجائے گا اور اس پر روزہ رکھنا لازم ہوں گے۔ باقی مسافر جب سفر کے بعد اپنے وطن پہنچ جائے تو اس  پر پھر باقی ایام  کے روزہ رکھنا لازم ہوں گے اور سفر میں روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے ان روزوں کا ثواب کم نہیں ہوگا، البتہ سفر میں جو روزے چھوڑدیے  ہیں ان کی قضا کرنا لازم ہوگا۔

  الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 431):

’’(ولو نوى مسافر الفطر) أو لم ينو (فأقام ونوى الصوم في وقتها) قبل الزوال (صح) مطلقاً، (ويجب عليه) الصوم (لو) كان (في رمضان)؛ لزوال المرخص (كما يجب على مقيم إتمام) صوم (يوم منه) أي رمضان (سافر فيه) أي في ذلك اليوم، (و) لكن (لا كفارة عليه لو أفطر فيهما) للشبهة في أوله وآخره.

(قوله: ويجب عليه الصوم) أي إنشاؤه حيث صح منه بأن كان في وقت النية ولم يوجد ما ينافيه، وإلا وجب عليه الإمساك كحائض طهرت ومجنون أفاق كما مر، (قوله: كما يجب على مقيم إلخ) لما قدمناه أول الفصل أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لايحل الفطر‘‘.  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے