بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سری نمازوں میں مقتدی کو آہستہ آواز سے قرأت کرنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے؟


سوال

 ظہر اور عصر کی نماز میں امام ہلکی آواز میں تلاوت کرتے ہیں تو کیا ہمیں خود سے تلاوت کرنی چاہیے کہ مکمل خاموش رہنا چاہیے ?

جواب

جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کسی بھی نماز کی کسی بھی رکعت میں مقتدی کے لیے قرأت کرنا جائز نہیں ہے، امام صاحب چاہے جہری (بلند آواز سے) قرأت کر رہے ہوں یا سری (آہستہ آواز سے) قرأت کر رہے ہوں دونوں صورتوں میں مقتدی کے  لیے حکم یہ ہے کہ وہ خاموش کھڑا رہے، کیوں کہ امام کی قرأت مقتدی کی طرف سے بھی ہوتی ہے. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201914

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے