بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ٹیکس سے بچنے کے لیے مخلتف طریقہ اختیار کرنا


سوال

فتویٰ نمبر 143909200677 جو کہ ٹیکس سے متعلق تھا آپ نے چند شرائط بتائیں جن میں رہتے ہوئے حکومت ٹیکس لے سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ:

1: کیا موجودہ دور میں پاکستان کی حکومتِ وقت ان شرائط پے پورا اترتی ہے؟یا ایک عام پاکستانی مسلمان کو ان باتوں سے بالا تر ہو کے ٹیکس کی مکمل ادائیگی کرنی چاہیے؟

2:  اگر کسی کمپنی میں ٹیکس کی کوئی رقم جو کہ قانونی طور پے بنتی ہو اسے چھپایا جاۓ کسی بھی طریقے سے تو اس میں تین باتیں پوچھنی ہیں۔

 1: چھپانے پر یعنی رقم ادا نہ کرنے پر کیا حکم ہے؟

2: رقم چھپانے کے لیے جو جھوٹ بولا گیا، اس کا کیا حکم ہے؟

3:  اگر یہ سارے حربے ملازم کو کمپنی کے لیے کرنا پڑیں تو اس ملازم کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ٹیکس کی شرائط سابقہ فتوی میں واضح ہیں، ان کی مدد سے فیصلہ کرلیا جائے۔

2ـ  الف،ب۔ٹیکس کے نظام کی درستی یا عدمِ درستی  سے قطع نظر جھوٹ بولنا یا دھوکا دہی کرنا حرام اور ممنوع ہے، اس لیے سرکاری ٹیکس میں کمی کے لیے صریح جھوٹ بولنا جائز نہیں۔

ج۔ اگر ادارے  کا اپنا کام جس پر ملازم کو تن خواہ ملتی ہے وہ جائز ہو  اور ملازم بحیثیتِ اکاؤنٹینٹ حسابات میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دھوکا دہی اور صریح جھوٹ کا راستہ اختیار نہ کرتا ہو تو اس صورت میں ملازم کی تن خواہ جائز ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے