بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ادارے کے ناقابلِ استعمال سامان کا حکم


سوال

ایک شخص سرکاری ادارے میں کام کرتا ہے، جہاں کچھ آلات تقریباً 12 سال پہلے خریدے گئے، اب وہی سامان پرانا ہوگیا اور موجودہ سسٹم میں استعمال کے قابل نہیں رہا، لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اس سامان کوٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا یا ضائع کردیا جائے، کیوں کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس سرکاری ادارے کا ایک ملازم اسے اپنے گھر میں استعمال کرسکتا ہے یا نہیں، کیوں کہ اسے یا تو ٹکڑے ٹکڑے ہونا ہے یا ضائع ہونا ہے؟

جواب

سرکاری ادارے میں موجود سامان اگرچہ قابلِ استعمال نہ رہا ہو اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً درست نہیں، البتہ اگر حکومت کسی کو اس کے استعمال کی اجازت دے دے یا متعلقہ ادارے سے وہ چیز خرید لی جائے تو پھر جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے